آج کی دنیا میں زمین، جائیداد یا جسمانی طاقت کی وہ اہمیت نہیں رہی جو انسان کے ذہن اور اس کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کی ہے۔ چاہے کسی مصنوعات کی فروخت کا معاملہ ہو، سیاسی اقتدار کا حصول ہو یا سفید پوش معاشی جرائم کا پردہ پوشی—ہر جگہ سیدھی گفتگو یا دلیل کے بجائے انسانی نفسیات کے ساتھ کھیلا جا رہا ہے۔ عام انسان کی سوچ، جذباتی کمزوریوں اور معلومات کو قبول کرنے کی عادت کا اتنے سائنسی انداز میں مطالعہ کیا جاتا ہے کہ وہ محسوس کیے بغیر ان مقاصد کا آلہ کار بن جاتا ہے جو دوسرے اس کے لیے طے کرتے ہیں۔ اس حکمت عملی کو اگر ہم ایک جملے میں بیان کرنا چاہیں تو وہ یہی ہے: “اگر آپ کسی کو مطمئن نہیں کر سکتے، تو اسے الجھا دیں۔”

اس ذہنی ہیرا پھیری کا بنیادی طریقہ کار انتہائی منظم اور تدریجی ہوتا ہے۔ سب سے پہلے انسان کے بنیادی عقائد، اصولوں اور روایتی ذرائعِ علم پر سے اس کا اعتماد ختم کیا جاتا ہے۔ جب تک انسان کے پاس کوئی مضبوط فکری بنیاد ہوگی، وہ کسی نئے اور جعلی بیانیے پر آسانی سے یقین نہیں کرے گا۔ چنانچہ پہلا مرحلہ اس کے فکری مرکز کو کمزور کرنا ہے۔ جیسے ہی بنیادی اعتماد متزلزل ہوتا ہے، ذہن میں شکوک و شبہات کے بیج بو دیے جاتے ہیں۔ متضاد خبروں، متضاد تجزیوں اور غلط معلومات کی ایسی بوچھاڑ کی جاتی ہے کہ عام آدمی سچ اور جھوٹ میں تمیز کرنے سے قاصر ہو جاتا ہے۔ اس مرحلے کا مقصد لوگوں کو کسی مخصوص جھوٹ پر قائل کرنا نہیں ہوتا، بلکہ انہیں اس بات پر مجبور کرنا ہوتا ہے کہ وہ یہ مان لیں کہ “سچ کا پتا لگانا ہی ناممکن ہے”۔ جب مسلسل الجھاؤ کی وجہ سے ذہن تھک ہار جاتا ہے، تو وہ کسی بھی سادہ اور تسلی بخش حل کی تلاش میں ہوتا ہے۔ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب ہیرا پھیری کرنے والے اپنا من پسند بیانیہ متعارف کرواتے ہیں، اور تھکا ہوا ذہن بغیر کسی چھان بین کے اسے قبول کر لیتا ہے۔

اس مسلسل ذہنی دباؤ اور معلومات کے بحران نے عام انسان کی نفسیاتی صحت پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ معاشرے میں ایک قسم کا عمومی نسیان یا شارٹ ٹرم ایمنیشیا پھیل چکا ہے۔ تیز رفتار ڈیجیٹل میڈیا، شارٹ ویڈیوز اور ہر لمحہ بدلتی خبروں کی وجہ سے لوگ پچھلے ہفتے کے اہم واقعات تک بھول جاتے ہیں۔ تاریخ سے اس انقطاع کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ لوگ تجربات سے سبق نہیں سیکھتے اور بار بار ایک ہی قسم کے فریب کا شکار ہوتے ہیں۔

اسی کے ساتھ ساتھ لوگوں کے فکری نظام کی نازکی میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ چونکہ معلومات کے گہرے مطالعے یا تحقیق کا وقت کسی کے پاس نہیں ہے، اس لیے لوگ ہر سنسنی خیز انکشاف، غیر تصدیق شدہ خبر اور بے پر کی سازشی نظریہ پر فوراً یقین کر لیتے ہیں۔ جب بھی کوئی عام سا واقعہ رونما ہوتا ہے، تو اس کے بیسیوں زاویوں سے ایسے تجزیے پیش کیے جاتے ہیں کہ اصل حقیقت کہیں گم ہو کر رہ جاتی ہے۔ ایک ہی واقعے پر عوام کو مختلف گروہوں میں تقسیم کر کے ان کے درمیان لفظی جنگ چھیڑ دی جاتی ہے، تاکہ ان کی توجہ واقعی اہم مسائل سے ہٹی رہے۔

چاہے یہ بزنس برانڈز کا کام ہو جو انسان کے اندر بلا ضرورت چیزیں خریدنے کی تڑپ پیدا کرتے ہیں، یا سیاسی جماعتیں جو عوام کے خوف اور جذباتی وابستگی کا فائدہ اٹھاتی ہیں، ہر جگہ یہی اصول کارفرما ہے۔ اس ذہنی غلامی اور الجھاؤ سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے معلومات کے ذرائع کا انتخاب انتہائی احتیاط سے کرے۔ ہر سنسنی خیز خبر پر فوراً ردِعمل دینے کے بجائے صبر اور تحقیق کی عادت ڈالنا، اور اپنے بنیادی اخلاقی و عقلی اصولوں پر مضبوطی سے قائم رہنا ہی اس دور کا سب سے بڑا دفاع ہے۔

غور و فکر کے لیے ایک سوال

آپ کے خیال میں ہمارے روزمرہ کے ماحول میں وہ کون سی سب سے بڑی وجہ ہے جو ہمیں غیر ضروری الجھنوں میں مبتلا رکھتی ہے، اور آپ اس سے بچنے کے لیے کیا طریقہ اختیار کرتے ہیں؟


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Click to listen highlighted text!