Welcome to Basit Yousuf's Blog - SBS Consultants and Bin Ouf General Trading   Click to listen highlighted text! Welcome to Basit Yousuf's Blog - SBS Consultants and Bin Ouf General Trading

آج کے دور میں برانڈنگ، مارکیٹنگ اور پروموشن بہت ایڈوانس لیول پر چلی گئی ہے۔ اس پر پوری پوری ڈگریاں اور کورسز بن چکے ہیں۔ سالوں کی پڑھائیاں اور باریک سے باریک پہلو پر لمبی چوڑی کتابیں اور ویڈیوز موجود ہیں۔ یہ میری اپنی کنسلٹنگ کمپنی کے اہم شعبوں میں سے بھی ایک ہے۔ آج نیوز دیکھتے ہوئے اس بات کا شدت سے احساس ہوا کہ جتنا ان چیزوں کو کمرشل مارکیٹ سے زیادہ ہمارے ملک کے سیاستدانوں اور مذہبی سیاستدانوں نے ایڈاپٹ (اپنایا) اور اپلائی کیا ہے۔ کسی کے ہاتھ میں مخصوص چھڑی ہے، کسی کی خاص ٹوپی، کسی کی پگڑی، کسی کا پورا لباس تو کسی کے کچھ مخصوص نعرے۔

سوشل میڈیا کا تضاد: بے مقصد پروفیشنلزم اور غیر سنجیدہ رویہ

کبھی کبھی سمجھ نہیں آتا کہ ہماری قوم ‘ایجوکیٹڈ انوسنٹ’ (تعلیم یافتہ معصوم) ہے یا ‘ایجوکیٹڈ اسٹوپڈ’ (تعلیم یافتہ بیوقوف)۔ کیونکہ سوشل میڈیا پر جتنی لمبی چوڑی ڈیزگنیشنز (عہدے) اور ڈگریاں نظر آتی ہیں، اس حساب سے بحیثیت قوم ہمارا رسپانس اور ری ایکشن نہیں ہوتا۔ لنکن (LinkedIn) جو ایک پروفیشنل نیٹ ورکنگ پلیٹ فارم ہے—جہاں دنیا نیٹ ورکنگ، گروتھ اور نئے آئیڈیاز شیئر کر کے آگے بڑھتی ہے—وہاں ہم سسر اور بہو کے ناجائز تعلقات، ٹک ٹاکرز کی لیکڈ کہانیاں، شوبز سلیبریٹیز کے افیئرز اور کامیڈی کلپس شیئر کر رہے ہوتے ہیں۔

دوسری طرف، فیس بک اور انسٹاگرام پر ہم قرآن، حدیث اور مذہبی بیانات پوسٹ کر رہے ہوتے ہیں، حالانکہ ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ اگر اس پوسٹ یا ریل کو ایک انچ بھی اسکرول کیا جائے، تو نیچے کوئی گالی دے رہا ہوتا ہے یا کوئی نازیبا ڈانس کر رہا ہوتا ہے۔ ہم دین جیسی مقدس چیز کو ایسی جگہ شیئر کر رہے ہیں جہاں اس کا تقدس پامال ہو رہا ہے، اور جہاں پروفیشنل بات کرنی چاہیے وہاں ہم جہالت دکھا رہے ہیں۔ کیا لوگ ہیں ہم!

لاجک بمقابلہ جذبات اور ڈسپلن کا المیہ

ہمارا پسندیدہ پولیٹیکل لیڈر ‘فرشتہ’ ہے اور مخالف ‘شیطان’۔ ہم لاجک (عقل و دلیل) کا جواب جذبات سے دیتے ہیں اور خالص جذباتی باتوں میں زبردستی لاجک گھسیڑتے ہیں۔ ہمیں پوری دنیا کو ٹھیک کرنا ہے لیکن ہم خود ٹھیک ہونا نہیں چاہتے۔ پولیس والا ڈسپلن پر نہ ہو تو اس کی ویڈیو بنا کر پوری دنیا میں ذلیل کر دیتے ہیں، مگر ہمارا اپنا نہ سونے کا کوئی وقت ہے نہ اٹھنے کا۔ کمٹمنٹ (وعدے اور زبان) کے معاملے میں ہم پوری دنیا میں مشہور ہیں کہ کبھی وقت پر نہیں آئیں گے۔ دنیا میں اکثر جگہوں پر بزنس میٹنگ میں یہ سنتے ہی کہ سامنے والا ‘پاکستانی’ ہے، اگلے کی تقریباً 50 فیصد انرجی وہیں ڈاؤن ہو جاتی ہے۔

ہمیں اپنے کمفرٹ زون میں رہتے ہوئے ‘فورچیون 500’ (دنیا کی سب سے بڑی کمپنیوں) میں نام لکھوانا ہے، مگر وقت پر نہ افس کھولنا ہے نہ دکان۔ یہاں تک کہ آن لائن بھی وقت پر دستیاب نہیں ہونا۔

سب کچھ ‘آؤٹ سورس’ کرنے کی بیماری

اور بس یہی وہ کی-پوائنٹ (کمزوری) ہے جو ان سب لوگوں نے ہماری قوم کے بارے میں بہت اچھے سے سمجھ لیا ہے۔ ہم نے سوشل چینج، عدالتی اور سیاسی اصلاحات، اسلام، آنے والی نسلوں کی تربیت، اور یہاں تک کہ ملکی ترقی و خوشحالی، سب کا سب ‘آؤٹ سورس’ (دوسروں کے ذمے) کر دیا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ایئر کنڈیشنڈ کمرے میں ہاتھ میں موبائل پکڑ کر ٹی وی اسکرین کے سامنے بیٹھے رہیں اور یہ لوگ سب کچھ ٹھیک کر دیں، اور پھر ہم کسی فاتح کی طرح شان سے اس ‘سب ٹھیک ہوئی’ سوسائٹی میں مسکراتے ہوئے داخل ہو جائیں۔

کیا ہمیں واقعی لگتا ہے کہ یہ سلف-برانڈنگ اور سلف-پروموشن (اپنی مشہوری) کرنے والے لوگ ہمارے لیے یا کسی کے لیے بھی کچھ کریں گے؟ اور ایک بدلی ہوئی، سدھری ہوئی سوسائٹی دعائیں دیتے ہوئے ہمارے حوالے کر کے چلے جائیں گے، سیریسلی؟

تین نسلوں کی غلامی اور خوابوں کا ماتم

یہ وہ لوگ ہیں جو تین نسلوں سے اپنا اقتدار، اپنی پوزیشنز، اپنے عہدے، یہاں تک کہ اپنی سرکاری نوکریاں تک صرف اپنے اپنوں کے پاس ہی رکھنے کے خواہش مند ہیں۔ جو اپنی پوزیشن سلامت رکھنے اور اپنا بھاؤ بڑھانے کے لیے عام انسانوں کو جمع کرتے ہیں، جو ان کے لیے پورا پورا دن تپتی دھوپ میں کھڑے ہو کر نعرے لگاتے ہیں، مار کھاتے ہیں، گرفتار ہوتے ہیں۔ اور فائنلی (آخر کار) ہوتا کیا ہے؟ ان لیڈروں کی پوزیشن سلامت رہتی ہے، ان کی نئی قیمت لگ جاتی ہے، اور یہ پھر سے ایک جلسہ کر کے ہم سب کو بڑے بڑے خواب دکھاتے ہیں۔ پھر ایک پوری نسل ان خوابوں کے پورا ہونے کا انتظار کرتی ہے، اور پھر ان کی اولادیں ہماری اولادوں کی نئی مالک بن کر یہی سب کچھ دوبارہ ریپیٹ کرتی رہتی ہیں۔

آخری سوچ: فیصلہ آپ کا

اب فیصلہ ہمارا اپنا ہے: کیا ہم واقعی ایک ‘ایجوکیٹڈ اسٹوپڈ’ نیشن بن کر رہنا چاہتے ہیں جو دھوپ میں کھڑی ہو کر ان لوگوں کے لیے قربانیاں دیتی ہے جو ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر ہماری قیمت لگاتے ہیں؟ یا پھر ہم اس ‘آؤٹ سورسنگ’ کے چکر سے نکل کر اپنی ذمہ داری خود اٹھائیں گے؟

یاد رکھیں، جو قوم اپنے کردار اور روزمرہ کے ڈسپلن کو ٹھیک نہیں کرتی، اسے کوئی سلف-برانڈنگ کرنے والا لیڈر یا رہنما سدھری ہوئی سوسائٹی تھال میں رکھ کر تحفے میں نہیں دے گا۔ فیصلہ آج کرنا ہوگا—ورنہ ہماری اگلی نسلیں بھی اسی تپتی دھوپ میں کسی نئے سائے کے انتظار میں اپنی زندگیاں گوا دیں گی۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Click to listen highlighted text!