کسی بھی ملک میں اصل طاقت اور اہمیت نوجوانوں اور درمیانی عمر کے لوگوں میں ہوتی ہے۔ یہی لوگ معاشرے کو چلاتے ہیں، خاندان بناتے ہیں اور آنے والی نسل کی تربیت کرتے ہیں۔ لیکن آج جب ہم اپنے اردگرد دیکھتے ہیں تو ایک عجیب صورتحال نظر آتی ہے۔ معاشرے میں سب سے زیادہ آواز ان لوگوں کی سنی جاتی ہے جو امیر، طاقتور، مشہور یا کہانیاں سنانے والے ہیں۔ ان کے خیالات، ان کی ترجیحات اور ان کے نظریات کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے، جبکہ ہم جیسے عام لوگ، جو دراصل دوسرے اور تیسرے درجے میں آتے ہیں، اپنی ہی زندگیوں اور گھروں پر توجہ نہیں دے رہے۔
آج ہم اور ہمارے گھر والے ایسا مواد دیکھ اور سن رہے ہیں جو نہ صرف غیر ضروری ہے بلکہ بعض اوقات ہمارے لیے نقصان دہ بھی ہوتا ہے۔ یہ مواد آہستہ آہستہ ہماری سوچ اور رائے کو بدل رہا ہے۔ مثال کے طور پر، ایک امیر شخص اپنی لگژری زندگی کو دکھا رہا ہوتا ہے، ایک طاقتور سیاستدان اپنے ذاتی مفادات کے لیے قوانین سے بالاتر ہو کر بات کر رہا ہوتا ہے، اور کچھ تجزیہ کار اور یوٹیوبرز عالمی حالات پر بغیر مکمل اور مستند معلومات کے صرف اندازوں پر بات کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ سب چیزیں ہماری سوچ پر اثر ڈالتی ہیں اور ہمیں حقیقت سے دور لے جاتی ہیں۔
اس سب کے درمیان ایک بہت اہم بات ہم نظر انداز کر دیتے ہیں، اور وہ یہ ہے کہ ہمارے اپنے گھر کے لوگ، خاص طور پر بچے اور زیرِ کفالت افراد کیا دیکھ رہے ہیں اور اس کا ان کی سوچ پر کیا اثر پڑ رہا ہے۔ غیر ضروری اور بے مقصد مواد دیکھنے سے ان کی توجہ اصل چیزوں سے ہٹ جاتی ہے، جیسے کہ تعلیم، کردار سازی اور ذمہ داری کا احساس۔
مزید افسوس کی بات یہ ہے کہ اس معلومات کے سمندر میں اخلاقیات، اقدار، سماجی رویوں اور شہری ذمہ داریوں پر بات بہت کم ہوتی ہے۔ اس کے بجائے زیادہ تر وقت فضول باتوں، افواہوں اور غیر اہم موضوعات پر ضائع ہو رہا ہے۔ اس سے نہ صرف وقت برباد ہوتا ہے بلکہ ہماری اجتماعی سوچ بھی کمزور ہو جاتی ہے۔ ہمیں اس بات پر گفتگو کرنی چاہیے کہ ہم ایک اچھے انسان اور ذمہ دار شہری کیسے بن سکتے ہیں، جیسا کہ ہمارا مذہب ہمیں سکھاتا ہے، لیکن بدقسمتی سے یہ موضوعات پسِ پشت چلے گئے ہیں۔
آج کے دور میں سوشل میڈیا، خاص طور پر سوشل نیٹ ورکنگ پلیٹ فارمز، کئی حد تک معاشرتی طور پر زہریلے بنتے جا رہے ہیں۔ حالانکہ یہ پلیٹ فارمز لوگوں کو جوڑنے اور آگاہی دینے کے لیے بنائے گئے تھے، لیکن اب ان پر منفی مواد، غلط معلومات اور وقت ضائع کرنے والی چیزیں زیادہ پھیل رہی ہیں۔
ایسی صورتحال میں ہر فرد کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ خود احتسابی کرے۔ کم از کم ہمیں یہ کوشش کرنی چاہیے کہ ہم ایسا مواد شیئر کریں جو مثبت ہو، فائدہ مند ہو اور معاشرے کی بہتری میں کردار ادا کرے۔ ایسا مواد جو قوم کی تعمیر کرے، اخلاقیات کو مضبوط کرے اور لوگوں میں ذمہ داری کا احساس پیدا کرے۔
ہمیں جھوٹی خبروں، افواہوں اور غیر اخلاقی مذاق یا مزاح کو پھیلانے کے بجائے ایک مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔ اگر ہر فرد اپنی ذمہ داری کو سمجھے اور اچھا مواد آگے بڑھائے تو ہم مل کر ایک بہتر، بااخلاق اور باشعور معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں۔


Leave a Reply