تعارف
ہمارے معاشرے میں ایک افسوسناک حقیقت بار بار سامنے آتی ہے: اکثر کسی بڑے حادثے یا سانحے کے بعد ہی لوگوں کی اصل پہچان ظاہر ہوتی ہے۔ مصیبتیں ایک آئینے کی طرح کام کرتی ہیں۔ وہ دکھا دیتی ہیں کہ کون سچا ہے، کون منافق، کون بہادر ہے اور کون صرف تماشائی۔
بدقسمتی سے ہمارے ملک میں اچھے اور برے میں فرق کرنے کے لیے بھی ہمیں کسی سانحے کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ ہم جذباتی تو بہت ہو جاتے ہیں، لیکن عملی قدم کم اٹھاتے ہیں۔ ہم شور بہت مچاتے ہیں، مگر سنجیدہ اصلاح کی کوشش کم کرتے ہیں۔ یہ رویہ اتفاقی نہیں بلکہ ہماری اجتماعی کمزوریوں کی علامت ہے، جنہیں سمجھنا اور بدلنا ضروری ہے۔
اچھوں کی قدر دیر سے کرنا
ہمارے ہاں ایک عام عادت ہے کہ ہم کسی اچھے انسان کی قدر اس کی زندگی میں نہیں کرتے۔ جب وہ دنیا سے چلا جاتا ہے تو ہم اس کی تعریفوں کے پل باندھ دیتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر لمبے لمبے پیغامات لکھے جاتے ہیں، اسے ہیرو قرار دیا جاتا ہے، مگر جب وہ زندہ تھا تب شاید ہم نے اس کا ساتھ نہیں دیا۔
اسی طرح ہم ناانصافی کے بارے میں بھی برسوں بعد بات کرتے ہیں۔ جب معاملہ ٹھنڈا پڑ چکا ہوتا ہے، جب ذمہ دار لوگ عہدوں سے ہٹ چکے ہوتے ہیں، تب ہم تنقید کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہم اس وقت کیوں خاموش رہتے ہیں جب بولنے کی اصل ضرورت ہوتی ہے؟ کیا ہماری بہادری صرف اس وقت جاگتی ہے جب خطرہ ختم ہو جائے؟
ہجوم بن جانا، مددگار نہیں
جب کوئی سڑک حادثہ ہوتا ہے تو لوگ فوراً جمع ہو جاتے ہیں۔ لیکن اکثر مدد کے لیے نہیں، بلکہ ویڈیو بنانے کے لیے۔ موبائل فون پہلے نکلتے ہیں، ایمبولینس بعد میں بلائی جاتی ہے۔ زخمی شخص زمین پر پڑا ہوتا ہے اور لوگ اس کے گرد کھڑے ہو کر ریکارڈنگ کر رہے ہوتے ہیں۔
یہ رویہ خطرناک ہے۔ ہم انسانوں کے درد کو ایک تماشہ بنا رہے ہیں۔ جلتی ہوئی عمارت، زلزلہ، یا کسی کی لاش — یہ سب بعض لوگوں کے لیے صرف “کانٹینٹ” بن چکے ہیں۔ ہم مدد کرنے کے بجائے ویوز اور لائکس کے بارے میں سوچتے ہیں۔ آہستہ آہستہ ہم حساس انسان سے زیادہ تماشائی بنتے جا رہے ہیں۔
سوشل میڈیا اور شہرت کی دوڑ
آج کے دور میں سوشل میڈیا نے ہمارے رویوں کو بہت متاثر کیا ہے۔ کسی بھی سانحے کے فوراً بعد وی لاگز، پوڈکاسٹس اور تبصرے شروع ہو جاتے ہیں۔ ہر کوئی اپنی رائے دینا چاہتا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ پوسٹ کرنا ہی اپنا فرض ادا کرنا ہے۔
لیکن صرف بات کرنا کافی نہیں۔ صرف غصہ ظاہر کرنا تبدیلی نہیں لاتا۔ اگر عملی قدم نہ اٹھایا جائے تو شور محض شور رہ جاتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ آگاہی ضروری ہے، مگر عمل اس سے بھی زیادہ ضروری ہے۔
ہم خاموش کیوں رہتے ہیں؟
اس رویے کی کئی وجوہات ہیں۔ سب سے بڑی وجہ خوف ہے۔ جب کوئی طاقتور شخص عہدے پر ہوتا ہے تو لوگ اس کے خلاف بولنے سے ڈرتے ہیں۔ انہیں نوکری، عزت یا کسی نقصان کا خوف ہوتا ہے۔ اس لیے وہ خاموش رہتے ہیں۔ جب وہی شخص عہدے سے ہٹ جاتا ہے تو سب تنقید شروع کر دیتے ہیں۔
ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم ہجوم کی نفسیات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اگر سب خاموش ہیں تو ہم بھی خاموش رہتے ہیں۔ ہمیں اکیلے کھڑا ہونے کی عادت نہیں۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا کی عادت بھی ہمیں فوری شہرت کی طرف لے جاتی ہے۔ لائکس اور شیئرز کی خوشی ہمیں اصل ذمہ داری سے دور کر دیتی ہے۔
شہری ذمہ داری کی کمی
ہمارے تعلیمی نظام میں بھی کمی ہے۔ ہمیں یہ نہیں سکھایا جاتا کہ ایک ذمہ دار شہری کیسے بنتے ہیں۔ نہ ہمیں فرسٹ ایڈ کی تربیت دی جاتی ہے، نہ یہ بتایا جاتا ہے کہ قانونی اور پُرامن طریقے سے احتجاج کیسے کیا جاتا ہے، نہ یہ سکھایا جاتا ہے کہ ناانصافی کے خلاف باقاعدہ شکایت کیسے درج کروائی جاتی ہے۔
جب تربیت نہیں ہوگی تو ردعمل جذباتی ہوگا، منظم نہیں۔
تبدیلی کیسے آئے گی؟
تبدیلی صرف سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے سے نہیں آئے گی۔ تبدیلی اس وقت آئے گی جب ہم اپنے رویے بدلیں گے۔ اگر کوئی حادثہ ہو تو سب سے پہلے مدد کو ترجیح دیں، ویڈیو بنانے کو نہیں۔ ایمبولینس بلائیں، راستہ صاف کریں، اگر ممکن ہو تو ابتدائی طبی امداد دیں۔
ہمیں اپنے بچوں اور نوجوانوں کو شہری ذمہ داری سکھانی ہوگی۔ اسکولوں اور کالجوں میں اخلاقیات، قانون کی بنیادی معلومات، اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تربیت دی جانی چاہیے۔ محلوں میں رضاکار گروپ بن سکتے ہیں جو مشکل وقت میں منظم انداز میں مدد کریں۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہمیں روزمرہ زندگی میں چھوٹی چھوٹی بہادری دکھانی ہوگی۔ بدعنوانی میں حصہ نہ لینا، غلط بات پر خاموش نہ رہنا، اچھے لوگوں کا ساتھ دینا — یہی اصل تبدیلی ہے۔
نتیجہ
ہم ایک جذباتی قوم ہیں، لیکن صرف جذبات کافی نہیں۔ اگر جذبات کے ساتھ نظم و ضبط اور ذمہ داری نہ ہو تو معاشرہ کمزور ہو جاتا ہے۔ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم ہر سانحے کے بعد صرف شور مچائیں گے یا پہلے سے خود کو بہتر بنائیں گے۔
اگلی بار جب کوئی حادثہ ہو، اپنے آپ سے سوال کریں:
کیا میں ویڈیو بناؤں گا یا مدد کروں گا؟
کیا میں صرف بات کروں گا یا عملی قدم اٹھاؤں گا؟

قومیں اسی وقت ترقی کرتی ہیں جب ان کے شہری تماشائی نہیں بلکہ ذمہ دار کردار ادا کرنے والے بن جائیں۔ تبدیلی ہجوم سے نہیں، ہر فرد کے اپنے فیصلے سے شروع ہوتی ہے۔


Leave a Reply