یہ ایک ایسی دردناک رات تھی جس میں آگ نے صرف کاروبار ہی نہیں جلائے بلکہ بے شمار خاندانوں کے روزگار، حوصلے، خواب اور امیدیں بھی راکھ بنا دیں۔ یہ ایک ایسا حادثہ تھا جس میں درجنوں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، وہ لوگ جو اپنے دوستوں کے ساتھ مختلف فلورز اور آس پاس کی دکانوں میں وقت گزار رہے تھے۔ ایک گھنٹے بعد وہ لاشوں، لاپتہ اور زخمیوں میں تبدیل ہوگئے۔ جو لوگ اپنی دکانوں سے کل کے کام اور آج کی سیل کو سوچتے ہوئے نکلے وہ دو گھنٹے بعد کیا بچ سکتا ہے کا حساب کرتے ہوئے پائے گئے۔ ابتدائی دو گھنٹے اتنے خوفناک تھے کہ صرف سامان ہی نہیں جلا بلکہ محنت کش لوگوں کے حوصلے، خواب اور مستقبل بھی تباہ ہو گئے۔
حادثے کے اگلے دن میں وہاں موجود تھا، اور جو کچھ میں نے دیکھا وہ خود حادثے سے بھی زیادہ تکلیف دہ تھا۔ بڑی تعداد میں لوگ صرف تماشہ دیکھنے آئے ہوئے تھے۔ موبائل فون سے ویڈیوز بنا رہے تھے، انہیں سوشل میڈیا کا کانٹینٹ سمجھ رہے تھے تاکہ ٹک ٹاک، یوٹیوب، فیس بک اور انسٹاگرام پر مشہور ہو سکیں۔ کچھ لوگ تو ڈرون بھی لے آئے تھے۔ ہجوم بلا وجہ جمع تھا، افواہیں پھیلا رہا تھا، بحثیں کر رہا تھا اور اُن لوگوں کے راستے روک رہا تھا جو حقیقت میں ریسکیو اور مدد کے کام میں مصروف تھے۔
اس واقعے نے ایک اور خطرناک حقیقت بھی ظاہر کر دی کہ خدا نخواستہ اگر اس نوعیت کے صرف دو بڑے حادثات اس 3 کروڑ سے زائد آبادی والے شہر میں ہو جائیں تو پورا نظام بیٹھ جائے گا۔ شہر کی مشینری 24 گھنٹے سے زیادہ آگ پر قابو پانے میں ناکام رہی، اور نقصان کا اندازہ لگانا بھی ممکن نہیں رہا۔
میڈیا چینلز نے بھی اسے ایک مقابلہ بنا لیا کہ کون سب سے پہلے خبر دے گا۔ مگر خبر کس بات کی؟ لاشوں کی تعداد؟ مالی نقصان؟ جلی ہوئی عمارتیں؟ کیا یہ واقعی خبر ہے؟ اصل متاثرین — دکاندار، ملازمین، اور بلڈنگ کا عملہ — روتے، چیختے اور شدید صدمے میں اپنی جلتی ہوئی زندگیوں کو دیکھ رہے تھے، ایک ایسی عمارت کو جلتا ہوا دیکھ رہے تھے جو پورے پاکستان کی تجارت کا اہم مرکز تھی۔
ہر حکمران طبقے کا نمائندہ آیا، وہی گھسے پٹے بیانات دیے، جلتے ہوئے مستقبل کے سامنے کھڑے ہو کر فوٹیج بنوائی اور پھر غائب ہو گئے۔ پانی کی کمی تھی، وسائل نہیں تھے، آلات نہیں تھے، تربیت نہیں تھی — ہر چیز کی کمی تھی۔ فائر فائٹرز اپنی پوری جان لگا کر، اپنی حد سے بڑھ کر کام کر رہے تھے، مگر بغیر مناسب تربیت اور رہنمائی کے ان کی محنت بھی ناکافی محسوس ہو رہی تھی۔ افسوسناک بات یہ تھی کہ 24 گھنٹوں سے لاپتہ افراد پر کوئی بات نہیں کر رہا تھا۔
سب سے زیادہ تکلیف دہ پہلو یہ تھا کہ زیادہ تر لوگ افواہوں پر یقین کر رہے تھے اور بغیر تصدیق کے انہیں آگے پھیلا رہے تھے۔ میں نے خود دیکھا کہ لوگ اپنی گاڑیاں کھڑی کر کے تماشا دیکھ رہے تھے، جیسے یہ کوئی تفریح ہو۔ (ممکن ہے میں غلط ہوں، لیکن اگر وہ متاثرین ہوتے تو ان کے چہروں پر پریشانی واضح نظر آتی۔)
اس حادثے نے ہمیں کئی سبق سکھائے:
نی چاہیے، جیسا کہ میں نے دوسرے ممالک میں دیکھا ہے۔
حکومت آپ کی جان اور مال کی محافظ نہیں، آپ کو خود اپنی حفاظت کرنی ہوگی۔
جو لوگ بلا وجہ جمع ہوتے ہیں، انہیں چاہیے کہ مدد کے کام میں شامل ہوں، منظم ہو کر رضاکار کے طور پر کام کریں، صرف تماشائی نہ بنیں۔
حادثات اور سانحات سوشل میڈیا کا مواد نہیں ہوتے، موبائل نکالنے سے پہلے یہ سوچیں کہ کسی کی زندگی یا جمع پونجی اس آگ میں جل رہی ہے۔
آگ کا خطرہ کوئی معمولی بات نہیں، اسے کبھی نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔
ہر مارکیٹ میں فائر الارم، فائر فائٹنگ سسٹم، ایمرجنسی ایگزٹ اور کم از کم ہر دو ماہ میں فائر ڈرل ہو
آخر میں، میں کچھ تنظیموں جیسے بنوری ٹاؤن رضاکاروں کو خراجِ تحسین پیش کرنا چاہتا ہوں، جو موقع پر پہنچے، پانی، بیٹھنے کی جگہ اور رضاکاروں کے ساتھ بھرپور مدد فراہم کی۔ کچھ افراد ایسے بھی تھے جو بغیر کسی لالچ، بغیر کسی تشہیر اور تعریف کے خاموشی سے اپنی ذمہ داری نبھا رہے تھے۔ ان سب کو سلام۔
اب آگے سیاست، مالی مفادات اور تعمیراتی مافیا اس حادثے کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرے گی اور متاثرین کو الجھائے گی۔ میری قریبی مارکیٹوں سے ذاتی درخواست ہے کہ وہ متاثرہ تاجروں کو دوبارہ کھڑا ہونے میں مدد کریں — انہیں جگہ دیں، اخلاقی سہارا دیں، سامان فراہم کریں اور ادائیگی میں نرمی کریں۔ اس کا کوئی تمغہ نہیں ملے گا، لیکن مجھے یقین ہے کہ روزِ قیامت یہ نیکیوں کے پلڑے میں بہت وزنی ثابت ہوگا، اور اس کا کوئی نعم البدل نہیں۔


Leave a Reply