آج کل ہر دوسرا کاروبار سوشل میڈیا پر اپنی جگہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ چاہے وہ کوئی چھوٹا ہوم بیسڈ برانڈ ہو یا کوئی بڑی کمپنی، سب یہی چاہتے ہیں کہ ان کی ویڈیوز، پوسٹس اور ریلس انسٹاگرام، فیس بک، یوٹیوب اور ٹک ٹاک پر وائرل ہو جائیں۔
یہ سمجھا جاتا ہے کہ اگر لوگ آپ کے اشتہار کو زیادہ دیکھیں گے، تو آپ کی فروخت بھی خودبخود بڑھ جائے گی۔ لیکن اصل حقیقت اس سے بہت مختلف ہے۔
سوشل میڈیا اشتہاروں سے بھرا ہوا بازار بن چکا ہے
آج کل سوشل میڈیا پر اتنے زیادہ اشتہارات ہوتے ہیں کہ ہر صارف روزانہ درجنوں بار ایک ہی جیسی چیزیں مختلف برانڈز کی طرف سے دیکھتا ہے۔ اگر کسی نے ایک بار جلد کی دیکھ بھال کی کسی پروڈکٹ کو سرچ کیا یا ویڈیو دیکھی، تو پھر اس کے سوشل میڈیا پر ہر طرف اسی جیسی چیزوں کے اشتہارات آنا شروع ہو جاتے ہیں۔
ایسے میں ہر کاروبار یہی سوچتا ہے کہ “اگر ہمارا اشتہار بھی ان تک پہنچ گیا، تو ہم بھی بک جائیں گے” — لیکن ایسا اکثر نہیں ہوتا۔
زیادہ لائکس، فالوورز اور کلکس… لیکن فروخت پھر بھی نہیں؟
کاروباری لوگ آج کل ریلس بنانے، انفلوئنسرز کو پیسے دینے، ہائی کوالٹی ویڈیوز بنانے اور روز نئی پوسٹس ڈالنے پر لاکھوں روپے خرچ کر رہے ہیں۔ ان کا خیال ہوتا ہے کہ یہی مواد وائرل ہو کر انہیں مشہور بھی کرے گا اور خریدار بھی لائے گا۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ لائکس، فالوورز یا ویوز کا مطلب فروخت نہیں ہوتا۔ یہ صرف نمبرز ہیں، جو اچھے لگتے ہیں، لیکن جب تک صارف آپ کا خریدار نہ بنے — یہ سب بیکار ہے۔
“ریچ” ہونا ضروری نہیں کہ “متعلقہ” بھی ہو
زیادہ تر اشتہارات جو ہم سوشل میڈیا پر چلا رہے ہوتے ہیں، وہ ایسے لوگوں تک پہنچ رہے ہوتے ہیں جنہیں ہمارا پراڈکٹ چاہیے ہی نہیں۔ ہم بس اس خوش فہمی میں رہتے ہیں کہ لاکھوں لوگوں نے ہمارا اشتہار دیکھا ہے، لیکن حقیقت میں شاید ہی کوئی دلچسپی لے رہا ہو۔
کاروباری دنیا کی سب سے بڑی غلطی
آج کے دور میں زیادہ تر کاروبار اصل مارکیٹنگ چھوڑ کر صرف “بہترین نظر آنے” کی دوڑ میں لگے ہوئے ہیں۔ کوئی یہ نہیں سوچ رہا کہ:
ہمارا گاہک ہے کون؟
مارکیٹ میں اصل مسئلہ کیا ہے؟
ہمارے مقابلے میں اور کون ہے اور وہ کیا کر رہا ہے؟
لوگ کیا چاہتے ہیں؟ ان کے مسائل کیا ہیں؟
اگر ان سوالوں کے جواب نہیں معلوم، تو پھر چاہے آپ جتنی مرضی اچھی ویڈیو بنا لیں، وہ صرف “دکھاوا” بن کے رہ جائے گی۔
اصل کامیابی کا راستہ: تحقیق، مشاہدہ اور منصوبہ بندی
جو کاروبار واقعی کامیاب ہوتے ہیں، وہ پہلے ریسرچ کرتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں:
ان کا اصل گاہک کون ہے؟
وہ لوگ کہاں رہتے ہیں؟ ان کی آمدنی، عمر، پسند کیا ہے؟
مارکیٹ میں کس چیز کی کمی ہے؟
لوگ کس چیز سے پریشان ہیں؟
اور ہم انہیں کیا خاص چیز دے سکتے ہیں؟
ایسے کاروبار پہلے چھوٹے تجربات کرتے ہیں، پھر اس کے نتائج دیکھ کر بڑے فیصلے کرتے ہیں۔
زیادہ شور نہ کریں، اصل قیمت دیں
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ سوشل میڈیا ایک طاقتور ذریعہ ہے، لیکن یہ کوئی جادو کی چھڑی نہیں ہے۔ صرف دکھاوے کی پوسٹس، انفلوئنسرز کے ساتھ ریلس یا زبردست کیمرہ ورک آپ کو مستقل خریدار نہیں دلا سکتے۔
اصل کامیابی تب آتی ہے جب آپ لوگوں کے مسئلے سمجھ کر اُن کے لیے حل پیش کرتے ہیں۔ مارکیٹ کو سمجھیں، گاہک کی ضرورت کو پہچانیں، اور پھر اس کے مطابق اپنا پیغام دیں۔
صرف وائرل ہونے کی کوشش نہ کریں — کچھ ایسا دیں جو لوگوں کے کام آئے۔


Leave a Reply