Welcome to Basit Yousuf's Blog - SBS Consultants and Bin Ouf General Trading   Click to listen highlighted text! Welcome to Basit Yousuf's Blog - SBS Consultants and Bin Ouf General Trading

پچھلے آرٹیکلز میں آپ نے پڑھا  کہ اس گورکھ دھندے میں نقصان سے زیادہ فائدے نظر آرہے ہیں . کس کے ؟ یہ بھی تحریر میں آچکا  اب آگے چلتے ہیں .

چونکہ  اب دنیا میں انسان دوستی، اسکی مدد کا پرچار بڑی  تیزی سے جاری ہے، اور اقوام متحدہ بھی زور و شور سے انسانیت کا راگ الاپ رہا ہے. سوچنے کی  بات یہ ہے کہ شام، فلسطین، افغانستان اور دیگر ممالک میں جب ہزاروں کی تعداد میں بچوں بڑوں کو موت کے گھات اتارا جا رہا تھا تو یہ ادارے حرکت میں کیوں نہیں آئے اور اس بیماری میں ایسا کیا ہے جس میں اموات کی تعداد بھی ان سے کہیں کم ہے. اور اس انسان دوستی کے مسیحا کون ہیں؟ یہ وہی لوگ ہیں جنھیں دنیا پر حکومت چاہیے اور یہ میرا انکشاف نہیں ان کی اپنی تقاریر میں ایسے کئی انکشافات ان کی اپنی زبانی موجود ہیں..

پلاننگ کا عالم یہ ہے کہ انسان پر حکومت کرنے کے لیے اس سے جڑی ہر چیز کو اپنے تابع بنانے کا یہ مکروہ عمل کسی ڈر اور خوف کے بغیر ڈنکے کی چوٹ پر جاری ہے . اپنے خلاف ہونے والی ہر بات اور معلومات کو بغیر وجہ بتاے غائب کر دینا، اپنے نظریے سے اختلاف رکھنے والے کے لیے قانون سازی، اپنے ہر ظالمانہ عمل کو قانونی تحفّظ اور دنیا کو جمہوریت، آزادی اظہار رائے  اور انسان دوستی کے خوبصورت لبادے میں زہر آلود کرنا. چونکہ بنیادی نشانہ اسلام ہے اس لیے دین بیزاری، علماء سے اختلاف، اور اسلام کے تمام شعبوں پر ضرب لگانے کا سلسلہ شروع  ہوچکا اور کفر اور الحاد کو اسلام کے لباس میں ہماری نسل کی اندر سوشل میڈیا، میڈیا اور بھانڈ میراثیوں کے ذریعے اتارا جانے لگا. پہلے مسجد کی اہمیت ختم کرنے کی کوشش ہو رہی ہے اور اسکے بعد علماء کے خلاف ایک بھرپور “کمپین” کا اندیشہ ہے. 

روک فیلر ، بل گیٹس ، روتھس چائلڈ، جے پی مورگن . جان ، ہوپکنس ، مونسنٹو، ڈیو پونٹ،  سنجینٹا اور کچھ اور چھوٹے پٹھو. ان سب کی “کھدائی” کرنے پر جو حیرت انگیز بات سامنے آئ وہ یہ کہ یہ سب آپس میں جڑے ہوے ہیں. مثال کے طور پر روک فیلر اور بل گیٹس ویکسین کے “
دھندے” میں، مونسنٹو اور سینجینٹا زرعی بیج اور فصلوں کو ، اپنے نام سے پیٹنٹ کرانے میں ، بل گیٹس اور مونسنٹو ناروے کے دور دراز علاقوں میں ان بیجوں کو محفوظ کرنے میں، راک فیلر اور مونسنٹو دواوں میں، اس کے علاوہ نیوز چینلز کے کاروبار میں، دنیا کے ہر بڑے ملک میں بینک کھولنے میں اور بہت کچھ. مزے کی بات یہ ہے کے یہ سب لوگ دل کھول کر ڈبلیو ایچ او کو فنڈنگ کرتے ہیں اور اس کی پالیسیز  پر ان کی اجارہ داری ہے.  اب آگے چلتے ہیں. 

ان لوگوں کا پہلا ہدف چھوٹے کاروبار کو سرے سے مٹانا یا ان کو مجبور کرنا کے وہ بڑے “جائنٹس” میں ضم ہو جائیں اور ان کے ملازم یا صحیح الفاظ میں “غلام” ہو کر کام کریں. اس کا ٹیسٹ کیس آپ آج کل “ایمیزون” اور “علی بابا ” کی شکل میں دیکھ ہی رہے ہیں. لوگ اپنے کاروبار سے ہٹ کر ایمیزون . اور دو تین بڑی کمپنیوں میں اپنا سامان بیچنا سیکھ رہے ہیں  دنیا کو نئے تجارتی اور کاروباری مزاج کی طرف دھکیلا جا چکا ہے. کیا درآمد ہو گا کیا برامد ہوگا ، کس سے اجازت اور سرٹیفکیٹ لینا ہوگا، اچھے یا برے کا فیصلہ کرنے والا کون ہوگا، ادائگی اور وصولی کس ذرایع کیا ہونگے اب یہ سب کچھ بظاھر کسی ان دیکھۓ  ہاتھ سے ہوتا نظر آرہا ہے . اب اس خوف کی تجارت اور ڈر پر منحصر معاشرے کی بنیاد رکھی جا رہی ہے جہاں سب کچھ کسی ممکنہ وبا یا بیماری کے زیر سایہ ہوتا نظر آرہا ہے. 

غریب ملکوں کو کیسے پابند بنانا ہے؟ نہ ماننے والوں کے ساتھ کیا کرنا ہے؟ عوام کو ڈرا ڈرا کر بے حال کرنے کے بعد اب عوام کتنی آسانی سے قابو آئے گی؟ اوپری طاقت کیسے چاہئے؟ اور ان کے “فرنٹ لائن” اتحادی کون ہوسکتے ہیں؟ ان سب پر انشاء الله اگلے آرٹیکل میں..

میرے تمام آرٹیکلز کسی مفروضے یا “تھیوری” کا حصّہ نہیں   اس ساری تحقیق کے حوالہ جات موجود ہیں. جو پچھلے چار سالوں میں کئی مختلف موضوعات پر کی ہے. 


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Click to listen highlighted text!