اب جبکہ بہت سی چیزیں موضوع بحث ہیں اور کئی طرح کی معلومات کا ایک جم غفیر ہے۔ تصویر صاف ہے۔
جیسا کہ اس سلسلے کے پہلے بلاگس میں آپ نے پڑھا تھا ان میں بہت سی باتیں سامنے آگئیں اب نظر ڈالتے ہیں کہ ان چیزوں کے ممکنہ منصوبے کیا ہو سکتے ہیں اور منطقی طور پر جیسا دکھایا جا رہ ہے ویسا ہی ہے؟
اب چونکہ گوگل سے نقل و حرکت پر نظر رکھنے کو ضروری قرار دیا جا رہا ہے تو اس میں ایک منطقی سوال ہے کہ گوگل پر تو ہزاروں فیک آئی ڈیز ہیں اور چین میں تو گوگل کام ہی نہیں کرتا۔۔ دوسرے یہ کہ پاکستان میں 50 فی صد سے زیادہ آبادی اسمارٹ فون استعمال ہی نہیں کرتی اسی طرح کی مثالی کئی ملکوں پر اپلائی کی جا سکتی ہیں ، تو جو سمجھایا جا رہا ہے کیا یہ واقعی اسی مقصد کیلئے ہے؟ جواب ہے “نہیں” کیونکہ یہ مقصد حاصل ہی نہیں ہو سکتا۔ دوسرے یہ کہ لاک ڈاون کےبعد سب کی نقل و حرکت بدل گئی تو حقیقی معلومات حاصل کیسے ہوگی؟ بہت آسان ہے کہ یہ ان کا پچھلی کئی دہائیوں سے “سکسیسفلی اپلائیڈ” فارمولا ہے۔۔ جس کی مثال تیل والے ملکوں کو دوسرے ملکوں سے ڈرا کر اس کے آس پاس یا اندر اپنی فوجوں کی مستقل قیام گاہ۔۔ موسٹ وانٹڈ “آتنک وادی” کا شوشا چھوڑ کر ڈالر کی نقل و حرکت پر کنٹرول تاکہ دنیا میں اضافی چھپے ہوئے ڈالر سے خریداری کرنے کے بعد وہ ڈالر دوبارہ امریکہ میں نہ آنے پائے۔ اب جب چین سے اصلی ڈالر کے عوض خریداری کرنی پڑ گئی تو پہلے شاید چین پر کامیابی سے الزام لگایا جائے گا اور اس کو سچ ثابت کرنے کیلئے اپنے کچھ بڑوں کو “بلی کا بکرا” بھی بنایا جائے گا۔
اللّٰہ ہمیں وہ فراست عطا کرے جس کے بارے میں آقا صلیٰ اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ مومن اللّٰہ کے نور سے دیکھتا ہے۔ اب جبکہ دنیا کو ہیروئین سے زیادہ خطرناک نشہ کی صورت میں سوشل میڈیا پر لگایا گیا ہے کہ نہ اسکے بغیر نیند آتی ہے نہ حلق سے نوالہ اترتا ہے۔۔ ایک گھر میں دس دس لوگوں کی موجودگی میں بھی خاموشی اور کھوئے رہنا مجھے آقا صلیٰ اللّٰہ علیہ وسلم کی وہ بات یاد دلاتا ہے جس کا مفہوم ہے کہ قرب قیامت میں دور نزدیک ہو جائے گا اور نزدیک دور۔۔ آنکھ سے اور ہر گھر میں دیکھا جاسکتا ہے۔ تو اب بہت آسان ہے کہ اس نشے کے بدلے آپ کے گھر کے اندر تک کی معلومات مانگی جائے تو ہم دینے کیلئے تیار ہیں۔۔
اب پہلے حصے میں ان علاقوں کو خود ساختہ خطرناک قرار دے کر وہاں ویکسین ٹھونسی جائے گی جو کہ “بی ہیوئیر موڈیفیکیشن” کا آغاز ہوگا۔۔ یہ پراجیکٹ نوّے کی دہائی میں امریکی سی آئی اے پر آزمایا جا چکا ہے اور جس کے تحت دس الگ الگ سوچ، عادات اور فطرت رکھنے والوں کو ایک پروگرام کی ہوئی سوچ، عادت اور فطرت پر لایا جا سکتا ہے۔۔ اس تجربے کے منفی اثرات میں سر درد، یادداشت کی کمزوری، اچانک ڈر جانا اور ایک خاص ذریعے سے دئیے گئے احکامات کو من و عن قبول کرنے کے بجائے اس کا الٹ کرنا۔۔۔ اب سوچیں اس بائیو ٹیکنالوجی کی ایجاد سے سب سے زیادہ خطرہ کس کو ہے۔۔ جی ہاں۔۔ مسلمان کو۔۔ جو بنیادی ہدف ہے۔
یہاں سے شروع ہوتی ہے میرے رب کی تدبیر۔۔ اور وہ ہتھیار جس کا کوئی ٹیکنالوجی مقابلہ نہیں کر سکتی اور وہ ہے ذکر کہ کثرت۔۔ اور سب سے افضل تلاوتِ قران۔۔ اور اس ہتھیار کی سب سے خوبصورت بات ہے کہ پڑھنا، سننا، دیکھنا سب کی تاثیر ہے۔۔ اور باطل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ۔۔۔ اسی لئے کانوں میں موسیقی، آنکھوں میں سوشل میڈیا کا زہر اور دماغ میں دین کو متنازع بنانے والی سوچ۔۔ جس کی پہلی قسط ہم دیکھ رہے ہیں۔۔ افسوس یہ ہے کہ موسیقی سن کر تلاوت و نماز میں دل نہ لگنے کو آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔۔ سوشل میڈیا پر میسج فارورڈ کرنے کو ثواب اور مغفرت کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔۔ جن چیزوں پر ہمارے ماں باپ کانوں کو ہاتھ لگاتے اور ہمیں مارنا پیٹنا شروع کردیتے ان چیزوں کو “آجکل کا ٹرینڈ” کہہ کر اپنے ہاتھوں سے اپنی اولاد کو پیش کرتے ہیں۔۔اور پھر “کرونا” سے پھیلائے ہوئے خوف میں “اسٹیٹس” پر گنگناتی ہوئی دعائیں لگاتے ہیں۔۔۔
ہمارا ایمان سمپسن، سی این این اور بی بی سی پر مضبوط ہو رہا ہے اور یہی انہیں کرنا ہے۔۔آج ان چینلز سے یا گوگل سے خبر آئے کہ کرونا ختم ہو گیا تو دنیا سڑکوں پر آجائے گی اور ہوائی فائرنگ شروع ہوجائے گی۔۔
جبکہ وہ “ہارپ” کے ذریعے زمین کی گردش سے چھیڑ چھاڑ کر کے دنیا میں موسموں کو آگے پیچھے کرنے کے تجربے سے گزر رہے ہیں اور “کلائمیٹ چینج” کو خطرہ قرار دے کر اپنے اس عمل کو قانونی کر رہے ہیں۔۔ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ قیامت سے پہلے سورج کا مشرق سے نکلنا اسی سلسلے کی بری شکل ہے۔۔
یہاں تک کہ وائرس کو ریڈیو فریکوینسی سے دنیا کے ہر حصے تک پہنچانے کی کیس اسٹڈی مکمل ہوگئی ہے جسے بظاہر دنیا میں صحت کی حفاظت کا خول اوڑھا کر استعمال کیا جا سکتا ہے۔۔
تھوڑی سی سرچنگ سے آپ ان سب کی تفصیل حاصل کر سکتے ہیں۔۔
دجال کا اسٹیج کتنا تیار ہے؟ دجال کو ویلکم کرنے والے اس کیلئے کس قسم کی تیاری چاہتے ہیں؟ کیا چند افراد پر مشتمل ٹیم دنیا پر حکومت کا فریم ورک بنا چکی ہے؟ اس میں آپ کو ٹاپ پوزیشن پر جلدی آنے کیلئے اپنے ایمان کو کس کے سامنے ذبح کرنا ہوتا ہے؟ دنیا کے بڑے برانڈز اور کاروبار میں کوئی مسلمان نام آج تک کیوں نہیں بڑھ پایا۔۔ اور جو تھوڑا بہت بڑھ پایا اس نے کیا قربان کیا۔۔ انشاء اللّٰہ اگلے آرٹیکل میں۔۔

Leave a Reply