Welcome to Basit Yousuf's Blog - SBS Consultants and Bin Ouf General Trading   Click to listen highlighted text! Welcome to Basit Yousuf's Blog - SBS Consultants and Bin Ouf General Trading

پچھلے آرٹیکل کے بعد کچھ لوگوں نے کہا کہ میں علماء کی رائے کے خلاف بات کر رہا ہوں۔ میں واضح کر دوں کہ میرا مطلب یہ ہرگز نہیں تھا کہ کرونا حقیقت نہیں ہے یا احتیاطی تدابیر نہ کی جائیں۔ جب خطرہ آ چکا ہو تو احتیاط نہ کرنا نادانی ہے۔

پچھلے آرٹیکل میں میں نے چند نکات بیان کیے تھے، اور تحقیق کے دوران کچھ مزید باتیں سامنے آئیں جنہیں شامل کرنا ضروری سمجھا۔

کرونا کے خطرے، اس کے پھیلاؤ اور میڈیا کے کردار پر اگر نظر ڈالیں تو کچھ سوالات پیدا ہوتے ہیں۔

اتفاق سے میں 26 دسمبر کو چین سے واپس آیا تھا۔ وہاں اس وقت لوگ سالانہ تعطیلات کے لیے گھروں کو جا رہے تھے اور فیکٹریاں و دفاتر تقریباً 15 سے 20 دن کے لیے بند ہوتے ہیں۔ کچھ دن بعد خبر آئی کہ ووہان میں ایک وائرس سامنے آیا ہے۔ چین نے شروع سے عالمی سوشل میڈیا کو اپنے ملک میں محدود رکھا اور اپنا کنٹرولڈ نظام بنایا ہوا ہے۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ وائرس کی خبر کے چند دنوں میں ہی امریکی میڈیا کی بڑی تعداد اسی موضوع پر مرکوز ہو گئی۔

پھر عالمی ادارۂ صحت (WHO) کی طرف سے بھی بڑی تعداد میں مضامین سامنے آئے، جن میں کہا گیا کہ اس وبا کی پیش گوئی پہلے کی جا چکی تھی۔ تلاش کرنے پر معلوم ہوا کہ چند سال پہلے بل گیٹس نے ایک ممکنہ وبا کے بارے میں بات کی تھی اور اس حوالے سے تیاری اور سرمایہ کاری کی ضرورت پر زور دیا تھا، حتیٰ کہ ٹیکنالوجی کے ذریعے لوگوں کی نگرانی کی بات بھی کی گئی تھی۔

یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر خطرے کی پیش گوئی تھی تو اس کو روکنے کے طریقوں پر پہلے سے کیوں کام نہ کیا گیا؟ ویکسین کے معاملے میں بھی مختلف آراء سامنے آئیں۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ بچوں کی ویکسینیشن کو لازمی بنانے کی پالیسیوں پر سوال اٹھائے جانے چاہئیں، جبکہ حکومتوں کو اس کے لیے فنڈز بھی دیے جاتے ہیں۔ پولیو ویکسین کے پروگرام کا ذکر بھی اسی تناظر میں کیا جاتا ہے۔

بل گیٹس کے کردار پر بحث الگ موضوع ہے، لیکن بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں جیسے گوگل کے اثر و رسوخ پر بھی سوال اٹھتے ہیں۔ گوگل کے پاس یہ طاقت ہے کہ وہ کس ویب سائٹ یا مواد کو نمایاں کرے اور کس کو محدود کر دے۔ یوٹیوب پر کام کرنے والے افراد جانتے ہیں کہ ناظرین تک کیا اور کیسے پہنچتا ہے، اس پر مکمل اختیار ان کے پاس نہیں ہوتا۔

اسی طرح سوشل میڈیا اور اسمارٹ فونز کے ذریعے صارفین کا ڈیٹا جمع ہونے، اپڈیٹس اور مفت سروسز کے بدلے معلومات حاصل کیے جانے پر بھی کئی لوگ تشویش ظاہر کرتے ہیں۔ اکثر صارفین یہ نہیں سوچتے کہ اتنی مہنگی ایپلی کیشنز اور سروسز مفت کیوں دی جا رہی ہیں اور بار بار اپڈیٹس کیوں آتی ہیں۔

نتیجہ یہ ہے کہ چاہے بات دوا کی ہو، علاج کی ہو یا کسی نظریے کی، عوام تک وہی بات زیادہ پہنچتی ہے جسے بڑی کمپنیاں اور پلیٹ فارمز آگے لانا چاہیں۔

آخر میں چند سوالات اٹھائے جاتے ہیں: کیا عالمی ادارے جیسے جان ہاپکنس، WHO، USAID اور یونیسیف ہی سب کچھ درست سمجھتے ہیں؟ کیا دنیا وباؤں اور ویکسین پر اسی طرح انحصار کرتی رہے گی؟ کیا ٹیکنالوجی اور میڈیا کے ذریعے عوامی رائے کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے؟

ان سوالات پر تفصیل سے بات آئندہ تحریر میں کی جائے گی۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Click to listen highlighted text!