یہ ایک کہانی ہم سب نے سنی ہے کہ ایک غریب شخص کو ایک ٹوٹی بوتل سے جن ملتا ہے جو اس سے ایک خواہش پوری کرنے کو کہتا ہے۔ اس شخص کی ماں نابینا تھی اور اس کے اپنے بچے بھی نہیں تھے۔ اس نے کہا، “میں چاہتا ہوں کہ میری ماں میرے بچوں کو سونے کے جھولے میں جھولتے دیکھے۔” یہ ایک بے مثال عقلمندی کی مثال تھی — مختصر، بامقصد اور ہر ضرورت کو سمیٹے ہوئے۔
آج کے دور میں ہم خواہ گفتگو ہو، کاروبار، نوکری یا سماجی میل جول، غیر ضروری باتوں میں الجھ جاتے ہیں۔ ہماری الجھن کی جڑ یہ ہے کہ ہم دوسروں کو دیکھ کر فیصلہ کرتے ہیں کہ بہتر کیا ہے، اور ثقافت کو اپنا رہنما بنا لیتے ہیں۔ مگر اصل فیصلہ اپنا ہونا چاہیے۔ یہ بات تب مزید واضح ہوتی ہے جب میں مختلف ملکوں میں مقیم پاکستانیوں سے ملتا ہوں — ہم ان کی زبان، ان کے انداز کو اپنانے لگتے ہیں، ان کے لباس کی نقل کرتے ہیں تاکہ وہ ہم سے ہماری ثقافت پوچھیں۔ لیکن یہ سب اپنی شناخت سے دوری کا سبب بنتا ہے۔
بات صرف ثقافت کی نہیں، ہمارے رویے بھی بگڑ چکے ہیں۔ فون پر کسی کو کال کریں تو یہ تک نہیں پوچھتے کہ اس کے پاس وقت ہے یا نہیں، بس بات شروع کر دیتے ہیں۔ اگر کسی کو آن لائن دیکھ لیں تو فوری جواب کی توقع رکھتے ہیں۔ جواب نہ ملے تو شکایتیں شروع ہوجاتی ہیں۔ گفتگو ہو یا کاروبار، سیدھی بات کی عادت ختم ہو چکی ہے۔ ہم بات شروع کرنے سے پہلے غیر ضروری تمہید باندھتے ہیں، شاید اس غلط فہمی میں کہ جتنا زیادہ بولیں گے اتنا زیادہ متاثر کریں گے، مگر نتیجہ الٹا نکلتا ہے۔
ہم گفتگو میں سچ کو چھوڑ کر غیر متعلقہ کہانیاں جوڑتے ہیں، بلاوجہ جھوٹ شامل کرتے ہیں۔ کسی کو مشورہ دیں یا مدد مانگیں تو تمہید اور غیر ضروری تفصیل کی بجائے سیدھا مقصد بتانا بہتر ہوتا ہے جیسے کہ: “میں آپ سے رابطہ کر رہا ہوں کیونکہ مجھے لگتا ہے آپ میری رہنمائی کر سکتے ہیں۔”
ایک اور بدتمیزی جو عام ہو چکی ہے وہ غیر ضروری سوالات ہیں جیسے “آپ یہاں کیا کر رہے ہیں؟” یا “میری کال کا جواب کیوں نہیں دیا؟” جن کا نہ وقت ہوتا ہے نہ ضرورت۔ ایسے سوالات بسا اوقات بدتمیزی کے زمرے میں آ جاتے ہیں۔
ہم دوسروں کے چہرے کے تاثرات، انداز گفتگو، یا کسی ردعمل سے فوراً نتیجہ اخذ کرتے ہیں، بغیر جانے کہ اس کے پیچھے کیا وجہ ہے۔ ہم جلدی لیبل لگا دیتے ہیں جیسے مغرور، حسد کرنے والا، اوور سمارٹ، جھوٹا وغیرہ، جبکہ ضروری نہیں کہ ہر بار ہمارا اندازہ درست ہو۔
ہم بحث کے دوران دوسروں کو بولنے نہیں دیتے، درمیان میں بات کاٹتے ہیں، اپنا نقطہ ثابت کرنے کے لیے جھوٹی کہانیاں بناتے ہیں، اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بحث جیتنے کی ضد میں سیکھنے کا موقع ضائع ہو جاتا ہے۔ بدتمیزی، گالی گلوچ اور سخت لہجہ ہماری گفتگو کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔ اس رویے نے ہمارے معاشرتی رویے کو زہریلا بنا دیا ہے۔
المیہ یہ ہے کہ ہم جس بات یا شخص کو پسند کرتے ہیں اسے درست ثابت کرنے کے لیے دوسرے کی تذلیل تک چلے جاتے ہیں۔ برداشت کی شدید کمی ہے اور تعریف کرنے میں بھی بخل برتا جاتا ہے۔
اب کیا کرنا چاہیے؟ ہمیں سب سے پہلے سننے کی عادت اپنانا ہوگی۔ اختلاف ہو تو بھی تحمل سے دوسروں کی بات پوری سنیں، پڑھائی کریں تاکہ بحث یا مکالمے میں دلیل کے ساتھ بات کریں۔ بات چیت میں سادگی، وضاحت اور مختصر الفاظ کو ترجیح دیں۔ اور یاد رکھیں، بعض اوقات خاموشی سب سے بہتر جواب ہوتا ہے۔
آخر میں یہ واضح کر دوں کہ یہ ساری خامیاں ہر شخص میں نہیں ہوتیں، مگر ہم میں سے اکثریت ان میں کسی نہ کسی حد تک ملوث ہے، اور ہمیں خود کو بہتر بنانے کی مسلسل کوشش کرنی چاہیے۔ ہماری اصل طاقت ہماری اپنی ثقافت، معاشرتی اقدار اور ہمارا دین ہے — ان پر فخر کریں اور خود کو غیر ثقافتوں کی اندھی تقلید سے بچائیں۔


Leave a Reply