ہم ایک ایسے دور میں رہ رہے ہیں جہاں بوریت کو ایک خرابی یا نقص سمجھا جاتا ہے۔ جیسے ہی ہمیں تھوڑا سا فارغ وقت ملتا ہےچاہے وہ چائے کی دکان پر اپنی باری کا انتظار ہو، لفٹ کا سفر ہو، یا ٹی وی پر آنے والا کوئی اشتہارہمارا انگوٹھا خود بخود جیب کی طرف جاتا ہے۔ ہم فوراً اسمارٹ فون نکالتے ہیں اور چند سیکنڈوں میں ویڈیوز، خبروں اور سوشل میڈیا کی دنیا میں کھو جاتے ہیں۔ ہم نے اپنے فارغ وقت کو بالکل ختم کر دیا ہے۔
لیکن بوریت کو ختم کرنے کی اس جلدی میں، شاید ہم انجانے میں اپنے دماغ کے ایک بہت ہی قیمتی حصے کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
بوریت وقت کا ضیاع (بربادی) نہیں ہے۔ یہ ایک ذہنی قطب نما (compass) ہے، نئے اور شاندار خیالات پیدا کرنے والی مشین ہے، اور آپ کی کارکردگی کو بڑھانے کا ایک چھپا ہوا ذریعہ ہے۔ اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے، ہمیں اس بے چینی والی کیفیت سے گھبرانے کے بجائے یہ سمجھنا ہوگا کہ بوریت ہمیں اصل میں کیا بتانے کی کوشش کر رہی ہے۔
اصل میں بوریت ہے کیا؟
سیدھے لفظوں میں، بوریت ایک ایسی بے چین کیفیت کا نام ہے جس میں آپ کا دل تو چاہ رہا ہوتا ہے کہ آپ کوئی اچھا یا سکون دینے والا کام کریں، لیکن آپ کو ایسا کوئی کام مل نہیں رہا ہوتا۔
یہ ایک ایسی حالت ہے جہاں دماغی توانائی کم ہوتی ہے اور دھیان بٹا ہوا ہوتا ہے۔ یہ آپ کو تب محسوس ہو سکتی ہے جب آپ کوئی ایک جیسا کام بار بار کر رہے ہوں (جیسے کمپیوٹر پر ڈیٹا اینٹری کرنا یا برتن دھونا)، یا جب آپ کے آس پاس کوئی دلچسپ چیز نہ ہو (جیسے کسی ڈاکٹر کے ویٹنگ روم میں بغیر وائی فائی کے بیٹھے رہنا)۔
بہت سے لوگ بوریت کو “آرام کرنے” یا “سستی” کے مترادف سمجھتے ہیں، لیکن یہ دونوں بالکل الگ چیزیں ہیں:
آرام پرسکون ہوتا ہے۔ جب آپ آرام کرتے ہیں، تو آپ کا دماغ پرسکون ہوتا ہے اور آپ کچھ نہ کر کے بھی خوش ہوتے ہیں۔
بوریت بے چین کرتی ہے۔ آپ کا دماغ ایک طرح سے چلا کر کہہ رہا ہوتا ہے، “میرے پاس اس وقت کام کرنے کی صلاحیت ہے، لیکن سامنے کوئی ایسی چیز نہیں جس پر میں اسے استعمال کروں!”
کیا بوریت اچھی ہے یا بری؟
اس کا مختصر جواب ہے: نہ یہ اچھی ہے، نہ بری۔ بوریت صرف ایک اندرونی اشارہ ہے۔
بوریت کو جسمانی درد کی طرح سمجھیں۔ اگر غلطی سے آپ کا ہاتھ کسی گرم چولہے پر لگ جائے، تو آپ کے اعصاب فوراً دماغ کو درد کا سگنل بھیجتے ہیں۔ وہ درد کوئی “بری” یا “خراب” چیز نہیں ہوتا وہ آپ کو بچانے کا ایک نظام ہوتا ہے جو کہتا ہے کہ ہاتھ پیچھے ہٹاؤ ورنہ جل جاؤ گے۔
بوریت بھی آپ کے دماغ کے لیے بالکل اسی طرح کام کرتی ہے۔ یہ ایک اندرونی الارم ہے جو آپ کو خبردار کرتا ہے کہ موجودہ صورتحال آپ کی صلاحیتوں، اقدار یا تجسس کا صحیح استعمال نہیں کر رہی۔ یہ آپ کو رکنے اور خود سے یہ اہم سوال پوچھنے پر مجبور کرتی ہے: مجھے اس وقت اپنی زندگی کے ساتھ اصل میں کیا کرنا چاہیے؟
بوریت آپ پر کیسا اثر ڈالتی ہے، اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ اس الارم کا جواب کیسے دیتے ہیں۔
بوریت کے دو راستے
جب دماغ میں بوریت کا الارم بجتا ہے، تو انسان عام طور پر دو میں سے ایک راستہ چنتا ہے:
فیس بک، ٹک ٹاک کا راستہ (نقصان دہ): اگر ہم فوراً اپنا دھیان بٹانے کے لیے موبائل اٹھا لیں اور ویڈیوز دیکھنا شروع کر دیں، تو وقتی طور پر الارم خاموش ہو جاتا ہے۔ لیکن یہ ہمیں حقیقی خوشی نہیں دیتا، ہم بس دماغ کو وقتی تفریح پر لگا دیتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ، اس طرح بوریت سے بھاگنے کی وجہ سے ہم ذہنی تھکن، چڑچڑاہٹ اور تخلیقی صلاحیت کی کمی کا شکار ہو جاتے ہیں۔
تخلیقی راستہ (فائدہ مند): اگر ہم فوراً موبائل اٹھانے کی خواہش کو روک لیں، تو ایک جادوئی کام ہوتا ہے۔ دماغ کو خالی بیٹھنا بالکل پسند نہیں ہوتا۔ اگر آپ اسے باہر سے کوئی معلومات (جیسے ویڈیوز وغیرہ) نہیں دیں گے، تو وہ اندر کی طرف متوجہ ہو جائے گا اور خود سے نئے خیالات بنانا شروع کر دے گا۔ یہیں سے نئے آئیڈیاز، مستقبل کے منصوبے اور خود کو بہتر بنانے کی سوچ جنم لیتی ہے۔
بوریت کو ایک طاقتور ہتھیار کیسے بنائیں؟
بوریت سے فائدہ اٹھانے کے لیے آپ کو کسی خالی کمرے میں گھنٹوں دیوار کو گھورنے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ کو بس اپنے دن کے فارغ حصوں کو صحیح طریقے سے سنبھالنا سیکھنا ہے۔ یہاں چار آسان طریقے دیے گئے ہیں جن سے آپ اگلی بار بور ہونے پر بہترین فائدہ اٹھا سکتے ہیں:
1. دماغ کو آزاد چھوڑ دیں (خیالوں کی دنیا)
جب آپ باہر کی دنیا پر دھیان دینا بند کر دیتے ہیں، تو آپ کا دماغ پس منظر میں کام کرنا شروع کر دیتا ہے۔ یہ دماغ کا وہ حصہ ہے جو پرانی یادوں کو جوڑتا ہے، مستقبل کے اہداف کا حساب لگاتا ہے، اور پرانے مسائل کو نئے زاویوں سے دیکھتا ہے۔
اسے کیسے استعمال کریں: اگلی بار جب آپ گھر کی صفائی کر رہے ہوں، کپڑے استری کر رہے ہوں یا پیدل چل رہے ہوں، تو کانوں میں ہینڈز فری نہ لگائیں۔ اپنے دماغ کو بالکل آزاد چھوڑ دیں کہ وہ جہاں جانا چاہے جائے۔ تاریخ کے بڑے بڑے آئیڈیاز اور ایجادات اسی طرح بالکل فارغ بیٹھنے کے دوران سامنے آئی تھیں۔
2. آسان اور ہلکے پھلکے کام نمٹائیں
بوریت اکثر اس بات کا اشارہ ہوتی ہے کہ آپ کا دماغ بھاری یا مشکل کام کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اس وقت دماغ پر زور ڈالنے کے بجائے، کام کو اپنی توانائی کے مطابق رکھیں۔
اسے کیسے استعمال کریں: ایسے چھوٹے چھوٹے کاموں کی ایک لسٹ بنا کر رکھیں جن میں زیادہ دماغ استعمال نہیں ہوتا۔ جب آپ بور ہو رہے ہوں اور کوئی بڑا کام کرنے کا دل نہ ہو، تو یہ چھوٹے کام شروع کر دیں۔ مثلاً اپنے موبائل یا کمپیوٹر سے فالتو فائلیں اور تصویریں ڈیلیٹ کریں، اپنے ای میلز کو صاف کریں، یا اپنے کمرے اور میز کی چیزیں ترتیب سے رکھیں۔ اس سے آپ کا ماحول بھی صاف ہو جائے گا اور دماغ پر بوجھ بھی نہیں پڑے گا۔
3. “صرف دو منٹ” والا فارمولا
کبھی کبھی بوریت اس لیے ہوتی ہے کیونکہ کوئی ایسا کام کرنا ضروری ہوتا ہے جو ہمیں سخت بورنگ لگتا ہے۔ اس کام کو شروع کرنے کی سستی ہی ہمیں آگے نہیں بڑھنے دیتی۔
اسے کیسے استعمال کریں: دو منٹ کا فارمولا اپنائیں۔ اپنے موبائل پر صرف 2 منٹ کا ٹائمر لگائیں اور خود سے کہیں: “مجھے صرف ٹائمر بجنے تک یہ بورنگ کام کرنا ہے۔ اس کے بعد میں چھوڑ دوں گا۔” چونکہ دو منٹ بہت تھوڑا وقت ہے، اس لیے دماغ اس کام کو کرنے کے لیے مان جائے گا۔ اور اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب آپ پہلے دو منٹ کی بوریت کا مقابلہ کر لیتے ہیں، تو آپ کا ایک تسلسل بن جاتا ہے اور آپ اس کام کو پورا کر لیتے ہیں۔
4. ایک “دلچسپ موضوعات” کی لسٹ بنائیں
جب ہم بور ہوتے ہیں، تو ہم وہی کرتے ہیں جو سب سے آسان ہوتا ہے، یعنی موبائل اٹھانا۔ اس کا مقابلہ کرنے کے لیے، آپ کو کچھ اچھا سیکھنے کے عمل کو بھی اتنا ہی آسان بنانا ہوگا۔
اسے کیسے استعمال کریں: اپنے موبائل کے نوٹس میں ایک لسٹ بنائیں جس کا نام رکھیں “سیکھنے کی چیزیں”۔ اس میں وہ تمام چیزیں لکھیں جن کے بارے میں آپ جاننا چاہتے تھے لیکن “وقت نہ ہونے” کی وجہ سے نہیں جان پائے (جیسے کوئی نئی مہارت، تاریخ کا کوئی واقعہ، یا کوئی کاروبار)۔ اگلی بار جب بوریت ہو، تو سوشل میڈیا کھولنے کے بجائے اس لسٹ میں سے کوئی ایک چیز چنیں اور اس کے بارے میں انٹرنیٹ پر کوئی اچھا معلوماتی مضمون پڑھیں یا ویڈیو دیکھیں۔ اس سے دماغ کی تفریح کی پیاس بھی بجھ جائے گی اور آپ کو کچھ نیا سیکھنے کو بھی ملے گا۔
آخری بات: بوریت کام کرنے کی صلاحیت کی دشمن نہیں ہے، بلکہ یہ اسے جگانے کا ذریعہ ہے۔ اگلی بار جب آپ کو فارغ وقت میں موبائل نکالنے کی شدید خواہش ہو، تو ایک گہرا سانس لیں اور رک جائیں۔ اپنے دماغ کو تھوڑا بور ہونے دیں۔ ہو سکتا ہے یہ بوریت آپ کو کوئی ایسا زبردست آئیڈیا دے جائے جس کا آپ کب سے انتظار کر رہے تھے۔


Leave a Reply