انسان کی دنیا پر حکومت کرنے کی خواہش ہزاروں سال سے چلی آرہی ہے۔۔کبھی فرعون کی شکل میں میں کبھی نمرود اور کبھی چنگیز و ہلاکو۔۔ مگر جب یہ خواہش ایک حتمی ہدف بن جائے اور اس کو کرنے والے اس کو اپنا مذہبی فریضہ جان کر کریں تو یہ ایک منظم اور بھر پور حکمت عملی بن جاتی ہے
پچھلے آرٹیکلز میں ہم نے طریقہ کار اور ممکنہ اقدامات پر بات کی۔۔ اب ہم اس کے دو رخ دیکھیں گے۔معلومات کے اس طوفان میں آج کل روز مرہ نئی نئی تھیوریز دیکھنے اور سننے کو ملتی ہیں اور مرکز ہمارے ذہنوں میں خود کو مسلط کرنے کے بعد یہ سمجھاتا ہے کہ فلاں چیز قابل اعتماد ہے اور فلاں نہیں۔۔ اور ہم من و عن اس کو تسلیم کر کے اپنا نقطہ نظر ترتیب دیتے ہیں۔۔اس کو سمجھنے کے لئے ایک مثال سے مدد لیتے ہیں۔
فرض کریں ایک پروگرام ترتیب دیا گیا جس کے تحت کسی قوم کو کوئی کھانے کی پراڈکٹ بیچنی ہے۔۔ اور اس سے کچھ پوشیدہ مقاصد حاصل کرنے ہیں۔۔ تو سب سے پہلے یہ دیکھا جائے گا کہ اگر یہ راز کھل جاتا ہے تو پلان بی کیا ہے۔۔اس کےلئے ضروری ہے وہاں کا ڈیٹا جو یہ بتائے کہ لوگ کیا سوچتے ہیں۔۔ کس کی مانتے ہیں۔۔ رد عمل کیا ہوتا ہے اور کن عوامل کا ذہن پر اثر لیتے ہیں۔۔ جس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ۔۔لوگ عیسائیت کی طرف راغب ہیں۔۔ کچھ کٹر ہیں اور کچھ “فلیکسیبل” ہیں۔۔ وہاں کے مقامی پادری کی مانتے ہیں اور اس کا مخالف ایک دوسرا پادری ہے۔۔ عیسائیت پر ضرب لگانے سے دو طبقے بن جاتے ہیں۔۔ جن میں سے ایک لڑنے مرنے پر آجاتا ہے جبکہ دوسرا اپنے مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے سخت رد عمل نہیں دیتا۔۔اور اگر ان کو کوئی کتاب یہ کہہ کر دی جائے کہ یہ بہت خفیہ ہے اور کئی جگہوں پر اسکو پڑھنے پر پابندی ہے تو وہ ضرور پڑھتے ہیں
اب اس کیلئے جو حکمت عملی بنے گی وہ کچھ یوں ہوگی۔۔ کہ اس پراڈکٹ کی لانچ سے پہلے ایک گروپ ایک پادری سے رابطہ کرے گا اور دوسرا مخالف سے۔۔ ایک گروپ پراڈکٹ کے حق میں دلائل دے گا اور دوسرا اس پراڈکٹ کے برخلاف۔۔ اور اس طرح پہلے فیز میں پراڈکٹ زبان زد عام ہو گی۔۔مخالف پادری کو پراڈکٹ کی اصل قباحت بتانے کے بجائے من گھڑت کہانی بتائی جائے گی اور کو شش کی جائے گی کہ مخالف پادری اپنے پیروکاروں کو زور و شور سے وہ قباحتیں بتائے اور پادری نمبر ایک کو “کنونس” کیا جائے گا کہ جو بتایا جا رہا ہے ایسا کچھ نہیں ہے اور پراڈکٹ ٹیسٹ بھی کروائی جائے گی جس میں ایسا کچھ نہیں ہوگا۔۔ تو پادری نمبر ایک اسے کلیئر کر دے گا۔۔ اور جیسے ہی وہ کلئیر کرے گا مخالف پادری اسے دشمنوں کا ایجنٹ کہہ کر پروپیگنڈا کرے گا۔۔کٹر قسم کے لوگ جو دشمن سے پہلے ہی نفرت کے جذبات رکھتے ہیں وہ کنفیوز ہونگے اور پادری نمبر ایک سے شک و شبہ یا کم از کم اس پر یقین کو ہلکا کریں گے۔۔پھر نمبر دو کو ایک آدھا سچ بتایا جائے گا جس کی وہ بھرپور تشہیر کرے گا۔۔ اور جس کے نتیجے میں اس پر نا معلوم لوگ تشدد کریں گے جس سے لوگ مزید کنفیوز ہو کر اسکی طرف مائل ہونا شروع ہونگے۔۔ پھر لالچی طبقے کو بھرپور منافع کے عوض اسکو بیچنے پر مائل کیا جائے گا اور وہ کاروباری پادری نمبر ایک کا سرٹیفیکیٹ لے کر بیچیں گے۔۔ جب وہ نفع بخش کاروبار یا “بھوکوں کو کھانا کھلانے” جیسے غلافوں میں لپیٹ کر مارکیٹ میں آئے گا تو لوگوں میں شک کا رجحان ختم ہونے لگے گا۔۔ پھر پادری نمبر دو کے گرد جمع ہونے والے اس کی مخالفت کریں گے اور لوگ اس کی اصل معلومات ڈھونڈنے میں لگیں گے تو بہت آسانے سے “خفیہ اور پابندی” والی معلومات لوگوں میں پھیلائی جائے گی جو اس پراڈکٹ کو غیرمحسوس طریقے سے “غیر مضر” قرار دے گی اور لوگوں کا یقین اس لئے ہوگا کہ اس پر “اندر کی بات” کا لیبل لگا ہو گا۔۔اور بیچنے والوں کو یہ پتہ ہے کہ یہ قوم اس کو خود چیک نہیں کر سکتی اور یہ ہمارے پاس ہی بھیجیں گے۔۔ تو اس کے جواب میں ایک ہاں اور ایک نہ کرے گا اور حقیقت جب تک سامنے آئے گی ان کا ستر فی صد ہدف پورا ہو چکا ہوگا۔۔ باقی تیس فی صد کو کسی نئے طریقے سے پورا کر لیں گے۔۔
اب اس یقین کی جنگ میں بڑا کردار انسنی فطرت ہے یا وہ تربیت ہے جو اسے کسی خاص یقین پر کاربند رکھتی ہے۔۔ جیسے خدا کا وجود۔۔ جس پر ہر مذہب سے تعلق رکھنے والا بغیر دلیل کے اور بغیر دیکھے یقین بھی رکھتا ہے اور اسکا دفاع بھی کرتا ہے۔۔ یا کم و بیش وہ اپنے یقین سے ہٹتا نہیں ہے۔۔ اس پر حملہ دو طرح سے ہو سکتا ہے ایک ذہنی اور فکری اور دوسرا اندرونی۔۔باطل کا مرکز ذہن اور فکر پر تو اسی “کنفیوزن تھیوری” سے کافی حد تک کنٹرول حاصل کر چکا مگر اندرونی رستہ کی کھوج میں لگا رہا۔۔اوراسمیں 1860 میں اشارہ اور 1950 میں کافی بڑا سراغ ڈی این اے کی شکل میں پایا۔۔ مزید گہرائی آپ کو بور کرے گی مگر سطحی بات یہ ہے کہ یہ ہر انسان کی ” ریسیپی” ہے کہ اس میں کیا کیا عادات، اطوار، جذبات اور کمزوریاں یا بیماریاں ہیں یا ہو سکتی ہیں۔۔اس راز کو پانے کے بعد انہیں ایک پکی پکائی ترکیب مل گئی جس سے ہر انسان کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالا جا سکتا ہے۔۔ اور کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔۔مائکروسافٹ اور جان ہاپکنس اس پراجیکٹ کے فاونڈر سمجھے جاتے ہیں اور اس پر مائکروسافٹ اپنی ریسرچ اس حد تک آگے لے جا چکا ہے کہ اس کے تجربات مختلف ویکسین کے ذریعے انسانی ڈی این اے کو پروگرام کرنے کیلئے داخل کر چکا ہے۔۔ اور اس کے کم و بیش اثرات ہماری “قطرے” پینے والی نسل کی بڑھتی عمر کے ساتھ ہمیں نظر آرہے ہیں۔۔ یہاں تک کہ بھارت نے بھی موصوف کو دی جانے والی کرسی چپکے سے گھسیٹ لی۔۔ مگر آج ویکسین کو زندگی موت کا مسئلہ بنا دیا گیا۔۔ اس کی کنفرمیشن کیلئے ٹیکنالوجی کا سہارا لیا گیا۔۔ایک حیرت انگیز بیماری نے “حملہ” کیا۔۔ اس کو پرکھنے کے لئے جو ٹیسٹ یا ڈیوائس استعمال ہو رہی ہیں وہ عام درجہ حرارت اورمدافعتی نظام کا پتہ لگانے کیلئے ہیں۔۔ اچانک دنیا سے ایڈز، ہیپاٹائٹس، کینسر، ہارٹ اور سب سے بڑھ کر “پولیو” جیسا بڑا خطرہ غائب ہو گیا۔۔ سب کو ایک ہی چیز دکھائی جا رہی ہے اور سب وہی سوچ رہے ہیں جو باطل کا مر کز چاہ رہا ہے۔۔ سوشل ڈسٹنسنگ سے انسان کو ٹریس کرنے کی اہمیت دماغوں میں انڈیلی جا چکی۔۔کہ کون کب کب کہاں کہا گیا یا جاتا ہے۔۔۔بڑے بڑے فنڈز کی شکل میں “ڈیجیٹل اکانومی” کی اہمیت بتائی جا رہی ہے جس کا نفاذ کرنا ہے۔۔اور لاک ڈاون سے معیشت کو تباہ کر کے اس کا نفاذ آسان ہے۔۔
یہ تو تھی حملے کی حکمت عملی۔۔اگلے آرٹیکل میں انشاءاللّہ بچاؤ کے واحد رستے پر بات کریں گے۔۔

Leave a Reply