اگلا سنگِ میل”گلوبل گورننس” ہے جس کے معنی بہت آسان ہیں۔۔خدائی کا دعویٰ
تو اس ہدف کو حاصل کرنے کیلئے بیت ضروری ہے خوف اور بھوک۔۔ خوف تو مسلط ہو گیا ہے۔۔ اور بھوک عنقریب مسلط ہونے کو ہے۔۔ مجھے لاک ڈاون اور کرونا سے زیادہ اس کے بعد کے حالات پر خوف ہے۔۔ جیسا کہ میرے آقا صلیٰ اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا جس کا مفہوم ہے کہ دجال کے ایک ہاتھ میں آگ اور ایک میں پانی ہوگا۔۔ بظاہر جو آگ ہوگی وہ درحقیقت پانی ہوگا اور بظاہر پانی درحقیقت آگ۔۔ اور میرے “گاربیج زدہ” ذہن میں کرونا بطور آگ اور ویکسین بطور پانی آیا۔۔
تو اس کیلئے بہت ضروری ہے انارکی۔۔ اقتدار کے بھوکوں کو انارکی سے ڈرایا گیا۔۔ عوام کو بھوک اور مرض سے ڈرایا گیا۔۔ اور جو مزاحمت کر سکتے ہیں ان کو پارٹنر بنایا گیا۔۔ اور جب انسان کو روٹی اور جان کے لالے پڑتے ہیں تو بڑے سے بڑا تعلیم یافتہ بھی کسی ایسی ان دیکھی طاقت کی طرف دیکھتا ہے جو اس کی جان اور مال بچا لے۔۔ ایسے میں غیر تعلیم یافتہ مشکل ہدف جبکہ تعلیم یافتہ آسان ہدف ہوتا ہے۔۔ کیونکہ اس کا انحصار اور ایمان مادی طاقتوں پر بن چکا ہوتا ہے۔۔ جیسے فیس بک کے بغیر مارکٹنگ نہیں ہو سکتی۔۔ گوگل کے بغیر کاروبار نہیں ہو سکتا اور میڈیا جو دکھاتا ہے وہی اصل تحقیق ہے۔۔۔
اب جب دنیا اس جال میں آچکی۔۔ اب باطل اپنی انگلی کٹوا کر مظلومیت کا رونا ڈالے گا۔۔ ذرا سوچیں اگر لاک ڈاون کے بعد معیشت کی بربادی کو ذمہ دار ٹہرا کر بنکوں کا دنیا کی نقدی اور سونے کو ہڑپ کرنا کتنا آسان ہے۔۔ اور جب آپ احتجاج کرو اور آپکے ہاتھ میں ایک کریڈٹ کارڈ پکڑا دیا جائے کہ اس میں تمہارے پیسے ہیں جہاں خرچ کرنا ہو بے فکر ہو کر کرو۔۔۔ لیجئے۔۔ آپ بن گئے رعایا۔۔ ان کی جو گلوبل گورننس چاہتے ہیں۔۔اب آپ کہاں، کیا اور کتنا خرچ کرتے ہو اور کتنا ٹیکس دیتے ہو۔۔ سب اس نظام کے تابع ہو جائے گا۔۔ پھر “گڈ کاپ بیڈ کاپ” شروع ہوگا جیسا آپ ابھی ٹرمپ اور ڈبلیو ایچ او میں دیکھ رہے ہیں۔۔ انسان کو کتے کی طرح ایک چپ کا پٹہ ڈالنے کی تیاری مکمل ہے۔۔ ویکسین تیار ہے۔۔ کرپٹو کرنسی اور پلاسٹک منی تقریباً نافذ العمل ہے۔۔ بس اب ویکسین سے ڈی این اے سے ایمان ختم کرنا ہے۔۔ اور یہ بھی چند دنوں میں سامنے آجائے گا۔۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس قسم کے طریقہ کار کو اس قوم پر کیوں نہیں آزمایا گیا جن کے ہاتھوں کچھ دنوں پہلے ہی ذلالت کی کیچڑ چاٹی گئی تو میرے گمان کے مطابق انہوں نے کوئی دروازہ کچا نہیں چھوڑا۔۔۔نہ فاسٹ فوڈ۔۔ نہ دوا۔۔ سوشل میڈیا۔۔ نہ ٹیکنالوجی کے نام پر پھیلایا جانے والا زہر۔۔ اور پھر نمازوں میں اخلاص۔۔ دین کے نفاذ کیلئے مر جانے کا جذبہ۔۔ اور بقول قران کریم کے۔۔” کفار پر سخت ہیں اور آپس میں نرم” اور یہی سب سے بڑا خطرہ ہے۔۔ اس معاہدے کے بعد امت ان کی طرف دیکھ رہی تھی۔۔ ہر طرف سے ان کی عظمت، استقامت اور ایمان کی تعریفوں کا چرچا تھا۔۔۔تو باطل کو خوف تھا کہ ان کا وائرس دنیا میں تیزی سے نہ پھیل جائے اس لئے اس کرونا پراجیکٹ کو عجلت میں لانچ کر دیا گیا۔۔ اور اس قدر ہائپ کی گئی کہ اپنی جان اور اپنی روٹی کی فکر سب سے پہلے ہو۔۔عبادت گاہوں کی بندش سے لوگوں کے اس یقین پر چوٹ پڑے کہ اللّٰہ ہر شے پر قادر ہے۔۔ اور پھر جب سب ریت کی دیوار بن جائے گا تو صرف ایک دھکا لگانے کی دیر ہوگی۔۔
جس طرح پچھلے آرٹیکلز میں لکھی ہوئی چیزیں ایک کے بعد ایک۔۔ کچھ کم کچھ زیادہ درجے میں ظاہر ہو ہی گئی ہیں۔۔۔ تو اب دیر نہیں کہ اقوام متحدہ کی “ایمرجنسی” بیٹھک ہو اور اس میں “گن پوائنٹ ویکسین اور گن پوائنٹ اکانومی” کے نفاذ پر کام شروع ہو۔۔۔ کیونکہ ہم میں سے کسی نے نہیں سوچا تھا کہ پاکستان جیسا ملک جہاں روٹی، تعلیم، صحت، قانون، انصاف کچھ بھی پورا نہیں وہاں “مائکرو چپ” والے شناختی کارڈ کس کام کے۔؟؟ اور اب تک اس سے شہری کو کیا فائدہ پہنچا۔۔
تیار رہیں۔۔۔ بس اب امتحان قریب ہے۔۔
بل گیٹس اتنا اہم کیوں ہے؟ ہنری کسنجر دنیا کو ایک نظام کے تابع کیوں کرنا چاہ رہا ہے۔۔ وینیزویلا میں کیا ہے؟ تیل کی قیمتیں، عرب اسپرنگ، جمہوریت اور فریڈم آف اسپیچ نے کن کن اہداف کو حاصل کر لیا ہے۔۔ دہریت کن راستوں سے مسلمان ممالک میں داخل ہو رہی ہے۔۔ “ملا” اور “مذہبی رجحان” کو کس طرح ناپا جا رہا ہے اور انہیں کس طرح ” نیوٹرالائز” کرنا ہے۔۔ انشاء اللّٰہ اگلے آرٹیکل میں۔۔

Leave a Reply