جب بھی میں نوجوانوں اور نوعمر افراد سے بات کرتا ہوں، تو اکثر میرے پاس الفاظ کم پڑ جاتے ہیں۔ یہ اس لیے نہیں کہ میرے پاس ان کے سوالات کے جوابات نہیں ہیں، بلکہ اس لیے کہ ان کا ذہن سوشل میڈیا کے اثرات سے تشکیل پایا ہوا ہوتا ہے۔
شروع میں، کئی اساتذہ، اسکالرز اور بزرگوں نے مجھے خبردار کیا تھا کہ اسمارٹ فون ایک “آہستہ زہر” ہے، اور اس کے نقصانات سے بہت محتاط رہنا چاہیے۔ اُس وقت میں نے اس بات کو زیادہ سنجیدہ نہیں لیا۔ آج میں آپ کے ساتھ ایک حالیہ گفتگو کا ذکر کرتا ہوں جو میں نے 18 سے 25 سال کی عمر کے نوجوانوں کے ایک گروپ کے ساتھ کی تھی، جن میں دو میرے سابقہ طالب علم اور ان کے کچھ دوست شامل تھے۔
گروپ میں ایک لڑکی نے سوال کیا: “ہمیں ہمارے بزرگ وہ آزادی کیوں نہیں دیتے جو دنیا نے حاصل کی اور اسی سے وہ کامیاب ہوئی؟”
میں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ سوال دراصل دوسرا سوال ہے۔ پہلا سوال یہ ہونا چاہیے کہ “آزادی کا مطلب ان کے نزدیک کیا ہے اور کیا چیزیں آزاد ہونی چاہییں؟” ان کا جواب تھا کہ بزرگ ہم پر بھروسہ نہیں کرتے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم جو کچھ کر رہے ہیں، جیسے دوستوں کے ساتھ باہر جانا، انٹرنیٹ پر وقت گزارنا، موسیقی سننا، ڈانس کرنا، نجی جگہوں پر تقریبیں کرنا، سگریٹ نوشی، اور غیر مہذب مواد دیکھنا، یہ سب بُری باتیں ہیں یا ایسی عادتیں ہیں جو مستقل ہوجائیں گی۔
نوجوانوں کا کہنا تھا کہ یہ سب چیزیں آج کل عام ہیں اور محض تفریح کا حصہ ہیں، نہ کہ بری عادتیں۔ لیکن بزرگ ہماری باتوں کو ماضی کی مثالیں دے کر رد کر دیتے ہیں اور ہماری ہر نئی سوچ کو غلط ثابت کر دیتے ہیں۔
اس گفتگو نے مجھے سوچنے پر مجبور کر دیا کہ نوجوان اچھے اور برے کی پہچان کیوں نہیں کر پا رہے؟ وہ کس چیز کو اچھا یا برا سمجھتے ہیں؟ میں نے ان سے ایک سوال کیا: “کیا آپ سمجھتے ہیں کہ جو چیزیں بزرگ غلط کہتے ہیں وہ واقعی غلط ہیں یا ان کا انجام خراب ہو سکتا ہے؟” میں نے کہا کہ اگر آپ ان چیزوں کو برا مانتے ہیں تو ہم بات کر سکتے ہیں کہ ان سے کیسے بچا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر آپ انہیں برا نہیں سمجھتے تو ہمیں پہلے یہ بات کرنا ہوگی کہ کیا واقعی وہ چیزیں اتنی بری ہیں جتنا کہا جاتا ہے؟
ان کا جواب تھا: “ہاں، ہم ان چیزوں کو برا سمجھتے ہیں، لیکن ہم اس میں اس طرح ملوث نہیں ہیں جیسا کہ بزرگ سوچتے ہیں۔” یہ جواب میرے لیے گفتگو کا نقطہ آغاز تھا۔
یہ مضمون ایک سیریز کا حصہ ہوگا۔ فی الحال میں صرف اس بات پر زور دینا چاہتا ہوں کہ نوجوان خود کو نظرانداز اور غیرمحبت شدہ کیوں سمجھتے ہیں۔ وہ یہ نہیں سمجھتے کہ بزرگوں کی نصیحتیں، ان کی نگرانی اور ان کے خدشات ہی ان کی پروا کا ثبوت ہیں۔ اگر کوئی آپ کی پروا نہ کرے تو وہ آپ کے معاملات میں دلچسپی کیوں لے گا؟
لیکن بزرگ بھی بعض اوقات نوجوانوں کے ساتھ مناسب دلیل اور ان کے مزاج کے مطابق بات نہیں کرتے۔ یہ خلا سوشل میڈیا کے اثرات سے مزید بڑھ گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر جو چیز مشہور ہو رہی ہوتی ہے، وہی درست سمجھی جاتی ہے، چاہے وہ سماج یا فرد کے لیے نقصان دہ ہی کیوں نہ ہو۔
یہ ایک خطرناک صورتِ حال ہے: نوجوان اپنی سوچ کے بجائے دوسروں کی اپنائی ہوئی سوچ پر عمل کر رہے ہیں۔ اور صحت مند مکالمہ کہیں گم ہو گیا ہے۔ دلیل کو بہانہ اور منطق کو دقیانوسی سمجھا جا رہا ہے۔
اس گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ فیصلہ لینے سے پہلے سوچنا ضروری ہے کہ آیا آپ کی سوچ واقعی آپ کی اپنی ہے؟ کیا وہ آپ کے ماحول، حالات، منطق اور درست دلیل پر مبنی ہے؟ چاہے آپ نوجوان ہوں یا بزرگ، سب کو شکایات اور تحفظات کے پیچھے چھپے حقیقی جذبات کو سننا ہوگا۔
خود کو تنہا، غیرمحبت شدہ یا نظرانداز سمجھنا آپ کو احساس کمتری میں مبتلا کر دیتا ہے، اور پھر آپ ہر ناکامی کا بہانہ بنانے لگتے ہیں۔ حالانکہ ان ناکامیوں کو چیلنج سمجھ کر اپنی صلاحیتوں اور ہنر کے ذریعے حل کرنا چاہیے۔
گفتگو مزید گہرائی میں گئی اور ایسے نکات پر بات ہوئی جیسے:
جو چیز نوجوانوں کے نزدیک معمولی یا کم بری ہے، وہ بزرگوں کے لیے انتہائی غلط ہو سکتی ہے۔
جو کامیابی نوجوانوں کو بڑی لگتی ہے، وہ دراصل ایک عارضی کامیابی ہو سکتی ہے جو آخر میں ناکامی یا صدمے کا باعث بنے۔
بات ان نکات پر بھی ہوئی جیسے:
مشہور ہونے اور کسی اچھے کام کے لیے عزت پانے میں فرق۔
کسی کو نقصان پہنچا کر توجہ حاصل کرنا یا کسی کو سہارا دے کر اپنی پہچان بنانا۔
برائی کو “یہ تو ہوتا رہتا ہے” سمجھ کر قبول کرنا یا اسے روکنے کی خالص نیت سے مخالفت کرنا۔
سوشل میڈیا کی معلومات کو اصل تجربے پر ترجیح دینا۔
نظریات پر بات کرنا لیکن عملی طور پر کچھ نہ کرنا۔
اور سب سے نقصان دہ بات یہ ہے کہ جب آپ کو اپنے سوالوں کے جواب نہ ملیں، یا آپ نے کسی سے مشورہ نہ کیا ہو، تو اپنے ذہن میں فرضی اور منفی نتائج بُن لینا۔
میں نے بغیر کسی طرفداری کے جواب دیا، جو انہیں کسی حد تک مطمئن کر سکا۔ میں نے کہا کہ ہمیں پہلے خود کو کسی واضح طرزِ زندگی سے جوڑنا ہوگا، اور اس کے بعد صحیح اور غلط کی تعریف زیادہ واضح ہو جائے گی۔ مثال کے طور پر، میں نے جانوروں کے گوشت کے بارے میں بات کی، جو دنیا بھر میں عام ہے۔ لیکن اس کے طریقے مختلف ہیں: کچھ مذاہب میں مخصوص طریقے سے ذبح کیا ہوا گوشت ہی جائز ہے، ورنہ ممنوع سمجھا جاتا ہے۔ ایسی صورت میں، جو شخص اپنے مذہب کی پیروی کرتا ہے، وہ ایسے گوشت کو نہیں کھائے گا جس کے بارے میں وہ مطمئن نہ ہو۔
اسی طرح، کچھ چیزیں آپ کے بنیادی عقائد سے ٹکراتی ہیں اور انہیں کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ کچھ ایسے کام ہیں جو براہِ راست نقصان دہ نہیں لگتے، لیکن بار بار کرنے سے نقصان کا خطرہ ہوتا ہے۔ اور کچھ کام ایسے ہیں جو بنیادی عقائد سے جڑے نہیں، ان میں بحث اور تجربات سے بہتر طریقے تلاش کیے جا سکتے ہیں۔
یہ سچ ہے کہ نسلوں کے درمیان سوچ کا ایک بڑا فرق ہے۔ بزرگوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ موجودہ دور کے مسائل اور حالات سے اچھی طرح واقف ہوں، اگر وہ نوجوانوں کو نصیحت کرنا چاہتے ہیں۔ ورنہ، وہ دقیانوسی، ان پڑھ یا غیر متعلقہ سمجھے جائیں گے، اور ان کی بات کو رد کر دیا جائے گا۔


Leave a Reply