گھڑی کی ٹک ٹک جاری ہے، اور وقت جیسے پر لگائے اڑ رہا ہے۔ میرے بچپن کی دھندلی یادوں میں جنرل ضیاء الحق کا دور شامل ہے، جب میرے والدین کہا کرتے تھے کہ یہ وہی شخص تھا جس نے مارشل لاء نافذ کیا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب میں تیسری یا چوتھی جماعت میں تھا۔ میرے والد نو بجے کی خبریں دیکھتے تھے، جو بمشکل ایک گھنٹے پر محیط ہوتیں، جن میں کھیل، تجارت، اور موسم کی خبریں بھی شامل ہوتی تھیں۔ آج، تقریباً ساڑھے تین دہائیاں بعد، 50 سے زائد مقامی چینلز روزانہ 12 گھنٹے تک بریکنگ نیوز “پیدا” کر رہے ہیں۔
یہ تحریر کسی “ہمارے زمانے میں” کے طرزِ فکر کو فروغ دینے کے لیے نہیں ہے۔ ہم مصنوعی ذہانت کے دور میں ہیں، جہاں صرف تصور کرنا کافی ہے اور نتائج آپ کے سامنے حاضر ہو جاتے ہیں۔ مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ ہمارے نوجوان بے روزگار ہیں، اور ہمارا تعلیمی نظام اس قابل بھی نہیں کہ شعور، ثقافت، اور اخلاقیات کی بنیادی سمجھ دے سکے۔ کیا یہ سب اس لیے ہے کہ ہم اپنی “سوہنی دھرتی” میں رہتے ہیں؟ لیکن جب ہم بیرونِ ملک جاتے ہیں تو قوانین پر عمل کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ حتیٰ کہ ایسی جگہوں پر لوگ ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ “کیا یہ درست عمل ہوگا؟”
ہم روزانہ سینکڑوں بے بنیاد اور غیر ضروری خبروں پر تبصرے کرتے ہیں، کچھ فضول پوسٹ دیکھ کر فوراً جواب دینے لگتے ہیں، اور گھنٹوں بے مقصد ویڈیوز دیکھنے میں ضائع کرتے ہیں۔ ہم جیسے گندگی کے مستقل سبسکرائبر بن گئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اصل میں ہمارے ساتھ ہو کیا رہا ہے؟ شاید ہمارے “آقا” ہمیں ان پڑھ رکھنا چاہتے ہیں تاکہ ہمیں موجود مواقع کی خبر ہی نہ ہو۔ ہم بغیر سوچے سمجھے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگے رہتے ہیں اور اپنے وقت کے ساتھ مواقع بھی ضائع کر دیتے ہیں۔
دوسری طرف، ہمارے چائے کے اسٹال آدھی رات تک کھلے رہتے ہیں، جہاں چند افراد کی محفلیں عالمی سیاست، معیشت، اور سازشوں پر گھنٹوں باتیں کرتی ہیں، اور اختتام اس سوال پر ہوتا ہے کہ “چائے اور پراٹھے کا بل کون ادا کرے گا؟” اللہ ہم سب پر رحم کرے۔
ہم میں سے اکثر کے پاس نہ کوئی وژن ہے، نہ تحقیق، نہ مطالعہ، اور نہ ہی معلومات۔ اس کے باوجود، ہم ہر چیز پر تبصرہ اور بحث کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں، چاہے وہ قرآن و حدیث ہو یا سماجی مسائل۔ ہمارا علم اکثر غیر مستند یوٹیوبرز یا بے مقصد تجزیہ کاروں کے دلائل پر مبنی ہوتا ہے، اور ہم اپنے خیالات کو کامل سمجھنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔
لہٰذا، اس تمام گفتگو کا نچوڑ یہ ہے کہ اگر ہمیں کسی مسئلے پر بات کرنی ہے، تو پہلے تحقیق اور مطالعہ لازم ہے۔ اپنی رائے کے بارے میں ماہرین سے مشورہ کریں کہ آیا وہ پیش کرنے کے قابل ہے یا نہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہمیں سیکھنے کے لیے کھلے ذہن کا ہونا چاہیے، اپنے خیالات کو بہتر بنانے اور دوسروں کی رائے کا احترام کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ ایک صحت مند مباحثہ ہمیشہ احترام اور خود احتسابی سے شروع ہوتا ہے۔
میری کمپنی میں ایک فعال بحث و مکالمے کا پلیٹ فارم موجود ہے، اور اگر آپ اپنے آپ کو ایک اچھا سوچنے والا سمجھتے ہیں اور معاشرے کے لیے کچھ پیش کرنا چاہتے ہیں، تو اس پلیٹ فارم میں شامل ہونے کے لیے مجھ سے رابطہ کریں۔ بارش کا پہلا قطرہ بننے کی جرات کریں۔
یہ آرٹیکل انگریزی میں LinkedIn پر شائع ہے


Leave a Reply